روشنی کا سفر — Page 94
اتمام حجت کر دی۔اس جلسہ دعوت میں لاہور کے بڑے بڑے رؤساء امراء وکلاء بیرسٹر اور اخبارات کے ایڈیٹر مدعو تھے جن میں سے اکثر غیر احمدی تھے۔حضرت اقدس کی بے نظیر تقریر سے وہ بہت متاثر ہوئے۔یہ جلسہ سید محمدحسین شاہ صاحب کے مکان نے نچلے صحن میں منعقد ہوا۔۹۲۔پیغام صلح کی تصنیف حاله حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قیام لاہور کے دوران صرف تقاریر کے ذریعہ سے ہی اتمام حجت نہیں فرمائی بلکہ حضور نے ان دنوں ایک عظیم الشان رسالہ ”پیغام صلح بھی لکھا جو حضور کی آخری تصنیف تھی۔حضور کے لکھے ہوئے مسودہ کو ساتھ ہی ساتھ کاتب بھی لکھتا جاتا تھا۔ایک مرتبہ حضرت اقدس نماز عصر کے بعد حسب معمول تشریف فرما تھے اور احباب جھرمٹ ڈالے بیٹھے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب بھی موجود تھے۔کا تب لکھ رہا تھا اور خواجہ صاحب اپنی نگرانی میں لکھوا رہے تھے۔حضور نے فرمایا کہ خواجہ صاحب جلدی کیجئے۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہماری صحت کا کیا حال ہے۔“ وو ”پیغام صلح میں حضور نے ملک کی دو بڑی قوموں مسلمانوں اور ہندوؤں کو صلح اور آشتی کا شاندار پیغام دے کر اتحاد کی ایک مضبوط و مستحکم بنیاد قائم کر دی اور ہندو مسلم کشمکش کے مسئلہ کے خاتمہ کے لئے ایک نیا دروازہ کھول دیا۔حضور نے اس رسالہ میں خدا تعالیٰ کی عالمگیر صفت ربوبیت کا تذکرہ کرنے کے بعد ہندؤوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہندو اور آریہ صاحبان اگر ہمارے نبی ﷺ کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آئندہ توہین و تکذیب چھوڑ دیں تو میں سب سے پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر تیار ہوں کہ ہم احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور وید اور اس کے رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے۔اور اگر ایسا نہ کریں گے تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہ ہوگی ہند و صاحبوں کی خدمت میں ادا کریں گے۔اور اگر ہند و صاحبان دل سے ہمارے ساتھ صفائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایسا ہی اقرار لکھ کر اس پر دستخط کر دیں اور اس کا مضمون بھی یہ ہوگا کہ ہم حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں اور آئندہ آپ گوادب اور تعظیم کے ساتھ یاد کرینگے۔جیسا کے ماننے والے کے مناسب حال ہے۔اور اگر ہم ایسانہ کریں تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی احمدی سلسلہ کے پیش رو کی خدمت میں پیش کریں گے۔پیغام صلح صفحہ 455 اس تجویز کے ساتھ ہی حضور نے صاف صاف لفظوں میں لکھا:۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن اُن لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنیا جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے نا پاک حملے کرتے ہیں۔“