روشنی کا سفر — Page 54
(1854-1919) کولاہور کا بشپ مقرر کیا گیا تا کہ وہ تبلیغ عیسائیت کے کام میں تیزی پیدا کرے۔پادری لیسفرائے جو عیسائیت کا عالم ہونے کے ساتھ ساتھ اردو فارسی اور عبرانی زبانوں پر بھی عبور رکھتا تھا اپنے مذہب کی تبلیغ میں جارحانہ پالیسی کا قائل تھا اور دنوں میں ہندوستان میں ہر مسلمان کو عیسائی بنا دینے کا خواہش مند تھا۔18 مئی 1900ء کو اس نے لاہور میں ایک بڑے مجمع میں تقریر کی جس میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو معصوم نبی ثابت کیا جبکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو گناہگار ثابت کرنے کی کوشش کی۔مجمع میں موجود باقی لوگ تو پادری صاحب کی دلیلیں سن کر خاموش ہو گئے لیکن حضرت اقدس کے ایک مخلص مرید حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بڑی تفصیل سے اس کے ہر ایک اعتراض کا بھر پور جواب دیا اور اس کے سارے دلائل کی دھجیاں بکھیر دیں۔اور تمام مسلمان اس فتح پر بہت خوش ہوئے اور کئی دن تک اس بات کا چر چارہا کہ مرزائی جیت گئے۔پادری لیفرائے نے اپنی خفت کو مٹانے کیلئے یہ اشتہار دیا کہ وہ 25 مئی کو پھر لیکچر دیں گے جس میں حضرت مسیح ناصری کو زندہ رسول ثابت کرینگے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے اس لیکچر کا جواب دینے کیلئے ایک جامع اور مفصل مضمون تحریر کیا جس میں ناقابل تردید دلائل سے وفات مسیح ثابت کی اور ثابت کیا کہ حقیقی طور پر زندہ نبی اور زندگی بخش نبی صرف اور صرف حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں۔اشتہار کے مطابق پادری لیفرائے نے زندہ رسول کے موضوع پر لیکچر دیا اور وقفہ سوالات میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس کا لکھا ہوا مضمون بڑی شان و شوکت کے ساتھ پڑھ کر سنایا۔اگر چہ یہ مضمون پادری صاحب کے لیکچر سے قبل ہی لکھا گیا تھا لیکن خدائی تصرف کے ماتحت اس مضمون میں پادری صاحب کی ہر ایک بات کا رد موجود تھا اور لوگ حیران تھے کہ پادری صاحب کی تقریر کے معا بعد ایسا خوبصورت جواب کیسے لکھا گیا۔پادری صاحب نے اپنی شکست کو محسوس کر لیا اور انہوں نے جوا با صرف اتنا کہا کہ۔معلوم ہوتا ہے کہ تم مرزائی ہو۔ہم تم سے گفتگو نہیں کرتے۔ہمارے مخاطب عام مسلمان ہیں۔66 صف دشمن کو کیا ہم نے بحجت پامال سیف کا کام قلم ہی دکھایا ہم نے ۵۶۔منار المسیح کی بنیاد رکھی جاتی ہے (در مشین) حضرت رسول کریم ﷺ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ جب عیسی بن مریم کو مبعوث کرے گا تو وہ ایک سفید مینارہ کے