روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 55 of 104

روشنی کا سفر — Page 55

پاس نزول ہونگے جو دمشق سے شرقی جانب واقع ہوگا۔سواس حدیث کی روشنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت اقدس کو تحریک ہوئی کہ قادیان کی بیست اقصیٰ میں (جو حدیث کے مطابق دمشق سے ٹھیک مشرقی جانب واقع ہے ) ایک سفید مینار تعمیر کیا جائے۔اس وقت جماعت کی مالی حالت کے پیش نظر یہ ایک مشکل کام تھا لیکن جونہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریک ہوئی آپ نے جماعت کو اس امر سے آگاہ فرمایا اور مینار کی تعمیر کے لئے مالی معاونت کی تحریک فرمائی۔اس مینار کی تعمیر کے لئے خرچ کا اندازہ قریباً دس ہزار روپے تھا جو اس وقت کے اعتبار سے ایک بڑی رقم تھی۔تا ہم مخلص احباب نے حتی المقدور اس سلسلے میں چندہ دینا شروع کر دیا۔خود حضرت اماں جان نے اس مینار کی تعمیر کے لئے ایک ہزار روپے کا چندہ لکھوایا جو آپ نے دہلی کے ایک ذاتی مکان کی فروخت سے ادا کیا۔حضرت اقدس نے اس مینار کے لئے تحریک تو 1900ء میں کی تھی تاہم مختلف وجوہات کی بناء پر اس کی تعمیر میں دیر ہوتی چلی گئی جس کے بعد بالآخر مارچ 1903ء کو جمعہ کے روز اس مینار کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔حضرت اقدس نے ایک اینٹ منگوا کر اس پر لمبی دعا کی جس کے بعد یہ اینٹ منارة اسبیح کے مغربی حصہ کی بنیاد میں رکھ دی گئی۔اس مینار کی تعمیر تو شروع کر دی گئی لیکن مالی مشکلات اور بعض دیگر وجوہات کی بناء پر یہ مینار آپ کی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔جس کے بعد خلافت ثانیہ میں اس کام کو دوبارہ شروع کیا گیا اور بالآخر دسمبر 1915ء میں یہ خوشنما، دلکش اور شاندار مینار تعمیر ہو گیا۔یہ مینار 105 فٹ اونچا ہے اس کی تین منزلیں ہیں جبکہ اوپر جانے کے لئے 92 سیٹرھیاں ہیں۔حضرت اقدس نے اس مینار کی تین اغراض بیان فرمائیں۔ا۔اس پر چڑھ کو مؤذن اذان دیا کرے گا تا کہ لوگ جان لیں کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اللہ کی آواز ہر کان تک پہنچے۔۲۔اس پر ایک بڑا لالٹین لوگوں کی آنکھوں کو روشن کرنے کے لئے لگایا جائے گا تا کہ یہ بتایا جاسکے کہ آسمانی روشنی کا زمانہ آ گیا ہے۔۔اس میں ایک بڑی گھڑی نصب کی جائیگی تا کہ لوگ اپنا وقت پہچانیں اور یہ جانیں کہ وہ وقت آچکا ہے جب آسمان کے دروازے کھلنے تھے اور وقت کا امام آچکا ہے۔۵۷۔جماعت کا نام۔۔۔فرقہ احمدیہ سلسلہ احمدیہ کی بنیاد اگر چہ مارچ 1889ء کو رکھی جا چکی تھی لیکن ابھی تک اس سلسلے کا کوئی الگ نام تجویز نہیں کیا گیا تھا ای بناء پر دوسرے فرقوں سے امتیاز کیلئے بعض لوگ پنجاب میں حضرت اقدس کے ماننے والوں کو مرزائی اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں قادیانی کہا کرتے تھے۔1901ء میں ہونے والی مردم شماری نے اس بات کا موقعہ پیدا کر دیا کہ اب جماعت کا کوئی علیحدہ نام تجویز کیا جائے چنانچہ