روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 32 of 104

روشنی کا سفر — Page 32

”اے لوگو! کیا میں اس عمر میں جھوٹ بولنے کی آرزو کر سکتا ہوں۔“ آپ کے سچے جذبات ایسے تھے کہ انہوں نے دلوں کو موہ لیا اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔حضرت مسیح موعود فروری کے دوسرے ہفتے تک لاہور میں قیام فرما رہے جس کے بعد سیالکوٹ کے احباب جماعت کی خواہش پر سیالکوٹ جانے کا قصد کیا۔۳۱۔مکفر علماء کومباہلہ کی دعوت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اب تک مخالف علماء کو اپنے دعوے کی سچائی کیلئے قرآن اور حدیث کے علاوہ آسمانی نشانوں کی طرف توجہ دلا رہے تھے لیکن مخالف علماء نے ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باجود بھی آپ کے پیغام کی سچائی کو قبول نہ کیا تھا اب جبکہ آپ تبلیغ کا ایک مرحلہ طے کر چکے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان تمام علماء کو جو آپ کو کافر کہنے پر اصرار کر رہے تھے اور آپ کو کافر اور دجال کہتے رہے تھے مباہلہ کا چیلنج دیں۔اس خدائی حکم کے ماتحت حضرت اقدس نے 10 دسمبر 1892ء کو وقت کے علماء کو مباہلہ کی پہلی دعوت عام دی اور اس مباہلے کیلئے چار ماہ کی مہلت دی۔اس دعوت مباہلہ میں آپ کے اولین مخاطب مولوی نذیرحسین دہلوی صاحب اور ان کے انکار کی صورت میں شیخ محمدحسین بٹالوی صاحب تھے۔لیکن فردا فردا تمام علماء کو دعوت مباہلہ بھجوانے کے باوجود کسی کو بھی مردمیدان بننے کی جرات نہ ہوئی۔اور اگر ایک آدھ مولوی نے آمادگی کا اظہار کیا بھی تو اس کے ساتھیوں نے اسے منع کر دیا اور کوئی سامنے نہ آیا۔حضرت مسیح موعود اسی مضمون کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرماتے ہیں:۔آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر ہر مخالف کو مقابل چند بلایا ہم نے ۳۲۔خدا کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف پانیوالی ایک اور تصنیف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی عظمت اور کمالات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے اور دین پر فلسفہ اور سائنس و عقل کے حوالے سے اعتراض کرنے والوں کے جواب میں 1892ء میں ایک کتاب لکھنی شروع کی جو فروری