روشنی کا سفر — Page 56
اس مقصد کے لئے حضرت اقدس نے 4 نومبر 1900ء کو ایک اشتہار کے ذریعے جماعت کا نام ”جماعت احمدیہ تجویز فرمایا۔اور وو سیہ نام آنحضرت کی جمالی صفات کے مظہر نام ”احمد“ سے تعلق کے اظہار کے طور پر تجویز ہوا آپ نے فرمایا۔یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانے میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعے سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائیگا پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمد یہ رکھا جائے تا اس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اس فرقے کو کچھ سروکار نہیں۔۔(اشتہار واجب الاظہارمند رجہ مجموعہ اشتہارات ) نیز آپ نے اپنی جماعت کو بھی نصیحت کی کہ وہ آنحضرت کی صفت احمد کے مظہر بنیں اور شانِ احمدیت کو ظاہر کریں نیز اپنے ہر ایک بے جاجوش پر موت وارد کر کے عاشقانہ فروتنی دکھلائیں۔بدتر ب ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی دخل ނ ہو دار الوصال میں چھوڑو غرور و کبر کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولا اسی میں ہے ( در مشین) ۵۸۔دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت جماعت احمدیہ کی بنیاد 23 مارچ 1889ء کو رکھی گئی تھی جس کے بعد سے غیر احمدی علماء کی طرف سے مسلسل ایذا رسانی اور تکلیف پہنچانے کا سلسلہ جاری تھا۔1892ء میں مولوی محمد حسین بٹالوی نے علمائے ہند سے تکفیر کا ایک فتوی لیکر جماعت کو کافر اور مرتد قرار دے دیا جس کے مطابق احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھنا تعلق نکاح قائم کرنا اور ان کا جنازہ پڑھنا حرام تھا۔اور اس فتوے پر بڑی سختی سے عمل درآمد بھی شروع کروادیا گیا۔ان تمام تکالیف کے باوجود بھی جماعت احمد یہ دوسرے فرقہ کے ان لوگوں کے ساتھ جو براہ راست تکفیر میں شامل نہیں تھے نمازیں ادا کرتی رہی لیکن جب تکفیر کا سلسلہ حد سے بڑھ گیا تو حضرت اقدس نے احادیث کی روشنی میں اس باہمی کشمکش کو دور کرنے کے لئے یہ ہدایت فرمائی کہ آئندہ کسی مکفر و مکذب و مترڈ شخص کی اقتداء میں بالکل نماز نہ ادا کی