روشنی کا سفر — Page 57
جائے تاکہ اللہ کے گھروں میں فتنوں کا احتمال ختم ہو جائے۔تھی۔یہ ہدایت 1898ء کے لگ بھگ دی گئی تھی لیکن ابھی اس سلسلے میں حضرت اقدس نے کوئی تحریری ہدایت جماعت کو نہیں دی لیکن جب غیروں کی سختیاں انتہاء کو پہنچ گئیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے 1900ء کے آخر میں تحریری شکل میں بھی جماعت کو بذریعہ اشتہار غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت فرما دی۔آپ نے فرمایا یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متر ڈد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم۔۔نیز آپ نے فرمایا۔66 اربعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ نمبر 417 حاشیہ ) میر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔دیکھو! دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کیلئے ہے۔تم اُن میں اگر ترلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔پاک جماعت جب الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔(الحکم 10 اگست 1901ء) چنانچہ پھر ایسا ہی ہوا۔آپ کے اس فرمان کی تعمیل کے نتیجے میں جماعت ایک نمایاں حیثیت میں سامنے آئی اور روز افزوں ترقی کرتی چلی گئی۔۵۹ مجلس اور رسالہ "تشحیذ الا ذھان“ 1900 ء کا تاریخی سال اس اعتبار سے بھی یادگار ہے کہ اسی سال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک مجلس کی بنیا د رکھی جس کا نام حضرت اقدس مسیح موعود نے تفخیذ الاذہان تجویز فرمایا۔یہ مجلس دنیا میں احمدی نوجوانوں کی پہلی فعال