روشنی کا سفر — Page 36
عذر کے گھر خط لکھ دیا جس میں یہ بھی لکھ دیا کہ مکان کی تعمیر روک دی جائے کیونکہ شاید میں جلدی نہیں آ سکوں گا۔اس کے بعد ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہا السلام نے آپ سے فرمایا کہ اب آپ اپنے وطن بھیرہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔“ نیز حضور نے مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی سے فرمایا کہ مجھے مولوی نور الدین صاحب کے بارے میں یہ الہام ہوا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میرے واہمہ اور خواب میں بھی بھیرہ کا خیال پیدا نہ ہوا۔اور یوں آپ ہمیشہ کیلئے قادیان کے ہوگئے۔(مرقاة اليقين في حياة نورالدین صفحه 302) یہی وہ اطاعت کا اعلی معیار تھا جسکے سبب حضرت مسیح موعود نے آپ کی تعریف میں فرمایا کہ:۔خوش بودے چه اگر ہمیں بودے اگر ہر ہر یک زامت نوردیں بودے دل پر از نور یقیں بودے یعنی کیا ہی اچھا ہو کہ امت کا ہر فردنور دین بن جائے لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے جب ہر ایک دل یقین کے نور سے بھر جائے۔۳۷۔جنگ مقدس جنگ مقدس سے مراد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا وہ مباحثہ ہے جو حضور نے 22 مئی 1893 سے 5 جون 1893 ء تک عیسائی پادریوں سے امرتسر کے مقام پر کیا اور جس میں قدم قدم پر اللہ تعالی نے آپکو عظیم فتوحات سے نوازا۔اس مباحثے کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ جنڈیالہ جہاں پادریوں کا ایک زبر دست مشن موجود تھا وہاں کے ایک مسلمان میاں محمد بخش پاندہ صاحب عیسائیوں کے واعظوں کو عیسائیت پر اعتراضات پیش کر کے لاجواب کرتے رہتے تھے۔جب عیسائی پادری ان سے تنگ آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ طریق مناسب نہیں۔بہتر یہ ہوگا کہ تم اپنے مولوی کو بلاؤ اور ہم اپنے پادری بلاتے ہیں یوں ایک جلسہ میں عیسائیت اور اسلام کے بارے میں بحث ہو جائے۔پاندہ صاحب نے اس بات کو منظور کر لیا اور حضرت اقدس مسیح موعود کو اس سلسلے میں خط تحریر کیا کہ آپ اس مباحثے کے