روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 35 of 104

روشنی کا سفر — Page 35

السلام کو ایک بیٹے سے نوازا جن کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔آپ کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے الہام کی ذریعے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک عظیم فرزند کی خوشخبری دے دی تھی۔اور الہاماً اس بیٹے کو قمر الانبیاء یعنی نبیوں کے چاند کا خطاب دیا گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش اور تمنا تھی کہ آپ کو M۔A کروایا جائے تا کہ آپ دین کی عظیم الشان خدمات سرانجام دیں سکیں۔چنانچہ آپ نے 1916ء میں M۔A کا امتحان پاس کیا۔اور اس کے بعد اپنے عظیم قلمی جہاد کا آغاز فرما دیا۔آپ نے قریباً ہر ایک موضوع پر مضامین لکھے جن کے ذریعے سے جماعت کی تربیت اور تعلیم کا فریضہ سرانجام دیا۔آپ کی بلند پایا تصنیف سیرت خاتم النبین آنحضرت ﷺ کی زندگی کے دلکش پہلوؤں کو بڑی تفصیل سے بیان کرتی ہے۔اور اپنی نوعیت کی کتابوں میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔اسی طرح 1939ء میں آپ کی ایک یاد گار تصنیف ”سلسلہ احمدیہ شائع ہوئی جو جماعت احمدیہ کے پچاس سالہ کارناموں کی مختصر مگر جامع اور مستند تاریخ ہے۔عظیم علمی، ادبی اور انتظامی خدمات سرانجام دینے کے بعد 2 ستمبر 1963 ء کو یہ عظیم وجود اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔آپ کی وفات لاہور میں ہوئی اور آپ کا مزار بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہے۔لاتصبون الى الوطن ۳۶۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی قادیان میں مستقل رہائش حضرت خلیفہ المسیح الاول مہاراجہ کشمیر کی ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد اپنے آبائی علاقہ بھیرہ میں ایک بڑا شفاخانہ کھولنا چاہتے تھے۔یہ 1892 ء کا واقعہ ہے۔اس سلسلے میں آپ نے ایک عظیم الشان مکان کی تعمیر شروع کی اور بڑے زورو شور سے تعمیر کا کام ہونے لگا۔اسی اثناء میں 1893ء میں آپ کو مکان کی تعمیر کے سلسلے میں بعض ضروری چیزوں کی خریداری کے سلسلے میں لاہور جانا پڑا۔لاہور پہنچ کر جی چاہا کہ قادیان نزدیک ہے حضرت اقدس سے بھی ملاقات کر لیں۔اس لئے آپ نے قادیان جانے کا ارادہ باندھا۔خیال یہ تھا کہ چونکہ بھیرہ میں تعمیر کا سلسلہ جاری ہے اس لئے جلدی سے قادیان جا کرواپس آجائیں گے۔آپ نے بٹالے سے قادیان جانے کیلئے یکہ لیا اور یکے والے سے کہا کہ کچھ دیر ٹھہر کر تمہارے ساتھ ہی واپسی ہوگی۔آپ جب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا ” اب تو آپ فارغ ہو گئے ہیں آ۔نے جواب دیا ” جی حضور ! اب تو میں فارغ ہی ہوں۔“ آپ نے یکے والے کو فارغ کر دیا اور سوچا کہ دو تین دن کے بعد واپسی کی اجازت لیں گے۔لیکن اگلے ہی روز حضرت اقدس علیہ السلام نے آپ سے فرمایا کہ آپ کو اکیلے رہنے میں دقت ہو گی آپ اپنی بیوی کو بھی یہاں بلوالیں۔آپ نے بغیر کسی