روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 28 of 104

روشنی کا سفر — Page 28

یہ خدائی تصرفات تھے جو اس وقت لوگوں کے دل بدل رہے تھے اور سعید فطرت لوگ کی باتوں کے باوجود کشاں کشاں آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔۲۶ - محمد حسین بٹالوی سے مباحثہ لدھیانہ میں قیام کے دوران حضور کا مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ ایک تحریری مباحثہ ہونا قرار پایا۔جو 20 جولائی سے 29 جولائی 1891 ء تک دس روز جاری رہا۔مباحثے کے لئے وفات مسیح کا موضوع تجویز کیا گیا تھا لیکن مولوی محمد حسین بٹالوی آخری دن تک موضوع سے گریز کرتا رہا۔تا ہم اس مباحثے کے نتیجے میں علمی طور پر ایک عظیم خزانہ مقام قرآن وحدیث کے بارے میں میسر آ گیا۔مباحثے کیلئے مولوی محمد حسین بٹالوی حضور کے مکان پر آئے اور حضور سے سوال کرنے لگے۔چونکہ معاہدہ تحریری مباحثے کا تھا اس لئے آپ نے جواب لکھنا شروع کئے۔لیکن ان سوال جواب کے بعد مولوی محمد حسین نے خلاف عہد زبانی تقریر کرنا شروع کر دی جس میں یہ بیان کیا کہ مرزا صاحب کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ قرآن شریف ہر ایک چیز سے بالا اور مقدم ہے۔اور حدیث کی حیثیت خادم قرآن کی سی ہے جو قرآنی مطالب کو سمجھانے میں مدد دیتی ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے کہا کہ درحقیقت حدیث قرآن کریم سے بالا اور مقدم ہے کیونکہ حدیث قرآنی مطالب کو کھولتی ہے اس لئے آپ کے دعوے کا فیصلہ حدیث کی روشنی میں ہونا چاہئے۔ان کی تقریر کے بعد حضوڑ نے جوابی تقریرفرمائی اور بتایا کہ چونکہ مولوی صاحب نے معاہدہ تو ڑ کر زبانی تقریر کی ہے اس لئے اب میرا بھی حق ہے کہ زبانی جواب دوں۔آپ نے مولوی صاحب کے اعتراض کو سامنے رکھ کر اس کا مدلل جواب دینا شروع کیا اور اس خوبصورتی کے ساتھ قرآنی عظمت اور حدیث پر قرآن کی فضیلت بیان کی کہ مولوی صاحب کے ساتھ آنے والے لوگ بھی عش عش کر اٹھے۔مولوی صاحب دراصل حضور سے وفات مسیح پر بات کرنے سے ڈرتے تھے اور جانتے تھے کہ اگر وفات مسیح پر گفتگو ہوئی تو وہ لا جواب ہو جائیں گے اس لئے انہوں نے مباحثے کے آخر تک انہی فروعی مسائل پر گفتگو جاری رکھی۔مباحثے کے آخری روز حضور نے فرمایا کہ اصل مسئلہ تو وفات مسیح کا ہے اور مولوی صاحب بار بار کہنے کے باوجود اس طرف آنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔آپ نے بڑی وضاحت سے وفات مسیح کا مسئلہ لوگوں کے سامنے رکھا اور دلائل بیان کرنے شروع کئے تو مولوی صاحب بوکھلا اٹھے اور عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگے۔عوام نے بھی دیکھ لیا کہ اس مباحثے میں مولوی محمد حسین بٹالوی حضور کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور اسے ہر لحاظ سے شکست فاش ہوئی۔بعد ازاں حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے یہ مباحثہ اپنے رسالہ الحق میں شائع بھی کر دیا۔لیکن محمد حسین بٹالوی نے باوجود توجہ دلانے کے اس بحث نہ چھاپا اور یوں اپنی شکست کا اعتراف کر لیا۔یہ مباحثہ روحانی خزائن کی جلد نمبر 4 میں ” مباحثہ