روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 27 of 104

روشنی کا سفر — Page 27

کیا شک میں تمہیں اس مسیح کے ہے ماننے جس کی مماثلت کو خدا نے دیا حاذق طبیب پاتے ہیں تم یہی خطاب خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا بعد ازاں 4 نومبر 1904ء کوسیالکوٹ میں ہونے والے ایک لیکچر میں حضرت اقدس علیہ السلام نے پہلی مرتبہ ہندوؤں کے لئے کرشن ہونے کا دعوی بھی فرمایا۔جس کی تفصیل لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد نمبر 20 کے صفحات 230-227 میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔۲۵۔دل بدلے جاتے ہیں حضور کے دعوی مسیحیت کے بعد جہاں ایک طرف مخالفت کا طوفان اٹھا و ہیں اس مخالفت کی کوکھ سے خوشنما مناظر بھی جنم لینے لگے۔مولویوں نے تو آپ کی مخالفت اپنا پیشہ بنا لیا تھا اور عوام الناس کو آپ کے متعلق غلط باتیں بتا کر آپ سے متنفر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے تھے۔1891ء میں جب آپ لدھیانہ تشریف لے گئے تو ایک واعظ نے بازار میں کھڑے ہو کر بڑے جوش سے حضور کے خلاف تقریر کی اور لوگوں کو اکسایا کہ جو آپ کو قتل کرے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ایک دیہاتی یہ تقریرین کر بہت متاثر ہوا اور جنت کے حصول کے لئے ہاتھ میں لاٹھی لئے آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے چل پڑا۔جب وہ حضور کی قیام گاہ پر پہنچا تو حضور اس وقت احباب جماعت سے خطاب فرما رہے تھے۔یہ دیہاتی وہاں بیٹھ کر موقع کا انتظار کرنے لگا۔چند منٹ کے اندراندر حضور کی گفتگو کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ سب مخالفت ہوا ہوگئی اور آگے بڑھ کر حضور کی بیعت کر لی۔ذکر حبیب مرتبه مفتی محمد صادق صاحب صفحه (14) اسی طرح ایک روز مخالف مولویوں نے پانچ آدمیوں کو بہکا کر آپ کی طرف بھیجا اور کہا کہ یہ شخص تمام نبیوں کو گالیاں دیتا ہے اور قرآن کریم اور رسول اللہ کو نہیں مانتا۔یہ لوگ غصے میں بھرے ہوئے آپ کی قیام گاہ میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضور کسی قرآنی آیت کی تفسیر فرمارہے ہیں۔یہ خاموشی سے بیٹھ گئے اور آپ کی تفسیر سننے لگے۔جب آپ بات مکمل کر چکے تو انہوں نے آگے بڑھ کر حضور سے مصافحہ کیا اور آپ کے ہاتھوں کو چوم لیا پھر کہنے لگے کہ لوگ ہمیں دھوکہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کا فر ہیں حالانکہ وہ خود کا فر ہیں کیونکہ اگر آپ مسلمان نہیں تو پھر کوئی مسلمان نہیں۔