روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 23 of 104

روشنی کا سفر — Page 23

لاتے تھے کہ کوئی ہندو یا آریہ بھی کیا لاتا ہوگا۔خدا کی ہستی کے منکر یہ لوگ نہ صرف اپنی ذاتی مجالس میں یہ گند بولتے تھے بلکہ 1885ء میں انہوں نے امرتسر کے ایک اخبار چشمہ نور میں بڑی دلیری اور بے باکی کے ساتھ ایک خط بھی شائع کیا جو دین حق اور آنحضرت کے بارے میں گالیوں سے پُر تھا۔نیز اس میں حضرت مسیح موعود کی دین سے والہانہ محبت کی وجہ سے آپ کو بھی برا بھلا کہا گیا تھا اور خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے طور پر اپنے بارے میں نشان دکھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔یہ حالت دیکھ کر حضور اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجو د ہو گئے اور دین کی سچائی کا نشان دکھانے کی التجا کی۔اللہ تعالیٰ نے الہاماً یہ بتایا کہ ان لوگوں پر بڑی بڑی بلائیں اور آفات آنے والی ہیں لیکن ساتھ ہی اپنی بے پایاں رحیمیت کی وجہ سے اس خاندان کو عذاب سے بچنے کا ایک موقعہ بھی دے دیا۔یہ لوگ چونکہ ہند وعقائد سے متاثر تھے اور دینی تعلیمات پر ہنتے تھے اس لئے یہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ دین حق میں جو رشتے کے چا یا ماموں سے شادی جائز ہے یہ غلط ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی پہلو سے اس خاندان کی آزمائش کرنے کا فیصلہ کیا اور حضور کو حکم دیا کہ مرز انظام الدین وغیرہ کی سگی بہن کی بیٹی محمدی بیگم کا رشتہ اپنے لئے مانگیں۔(محمدی بیگم کی والدہ حضور کی سنگی چچا زاد بہن تھیں جس لحاظ سے آپ رشتے میں محمدی بیگم کے غیر حقیقی ماموں بنتے تھے)۔اس حکم ربانی پر آپ نے بلا جھجک اس خاندان کو رشتے کے لئے پیغام بھجوایا اور لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ کو واضح طور پر بتایا کہ یہ رشتہ خدائی تحریک پر صرف تمہارے فائدے کیلئے مانگا جارہا ہے اگر یہ رشتہ منظور نہ کیا گیا تو لڑکی کا دوسری جگہ نکاح مبارک نہ ہوگا۔اور نکاح کی صورت میں تین سال کے اندر اندر تمہاری موت مقدر ہے اور لڑکی کے خاوند کی موت بھی اڑھائی سال میں ہو جائیگی۔اس خط کو مرزا احمد بیگ نے لڑکی کے ماموؤں مرزا امام الدین وغیرہ کی ہدایت پر اخبار میں شائع کر دیا اور یوں یہ پیشگوئی جو انفرادی نوعیت کی تھی پبلک میں عام ہوگئی اور زبان زدعام ہونے لگی۔مرزا احمد بیگ نے خدائی وعید کی پروانہ کرتے ہوئے ضد کے ساتھ 7 اپریل 1892ء کومحمدی بیگم کا نکاح مرزا سلطان محمد آف پٹی سے کر دیا۔اس پر خدائی غضب جوش میں آیا اور اس واقعے کے چھٹے مہینے 30 ستمبر 1892ءکومرزا احمد بیگ ہلاک ہوکر پیشگوئی کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کر گیا۔اس ہلاکت نے اس خاندان کو ہلا کر رکھ دیا اور خود ان کے گھر کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی۔اس خوف نے محمدی بیگم اور اس کے خاوند مرزا سلطان محمد کو بھی یہ ماننے پر مجبور کیا کہ مرز اصاحب بچے ہیں اور انہوں نے بھی عاجزی اور گریہ وزاری کو اختیار کیا۔بڑے درد سے دعائیں کیں جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت کی پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹال دی گئی۔گو ان کے زندہ رہنے پر مخالفین نے بہت شور مچایا لیکن خود مرزا سلطان محمد کی اپنی گواہیاں یہ تھیں کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری ہوئی اور وہ دین کے بچے خدمتگار نیک اور بزرگ تھے۔چنانچہ اس عظیم نشان کے بعد اس خاندان کے بہت سے لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے جن میں مرزا احمد بیگ کی اہلیہ (محمدی بیگم کی والدہ ) ان کا بیٹا مرزا محمد بیگ ( محمدی بیگم کا بھائی )۔اس کی تین بیٹیاں سردار بیگم عنایت بیگم محمودہ بیگم (محمدی بیگم کی بہنیں )۔اور سب سے بڑھ کر خود محمدی