روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 22 of 104

روشنی کا سفر — Page 22

بشیر الدین محمود احمد رکھا گیا۔اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ وعدوں کے مطابق آپ جماعت احمدیہ کے دوسرے امام کے طور پر منتخب ہو کر زمین کے کناروں تک شہرت پا کر دور دراز کی قوموں کے لئے برکت کا موجب بنے۔اور آپ کے ہاتھ سے اسلام کے درخت کی وہ آبیاری کی گئی کہ جو بے نظیر ہے۔7 اور 8 نومبر 1965 ء کی درمیانی شب آپ کی وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ کی اندرونی چار دیواری میں حضرت اماں جان کے پہلو میں آپ کو دفن کیا گیا۔۲۰۔حضور کے ذریعہ ایک امریکن کا قبول حق حضرت مسیح موعود کے دعاوی کی وجہ سے ہندوستان میں آپ کی مخالفت بڑے زوروں پر تھی۔لیکن ان تمام معاندانہ کاروائیوں کے باوجود نیک اور سعید روحیں کشاں کشاں حضرت مسیح موعود کے پیغام پر دین حق قبول کر رہی تھیں۔چنانچہ انہی لوگوں میں سے ایک امریکہ کے ایک گرجے کے پادری اور امریکہ کے مشہور روز نامہ ڈیلی گزٹ کے ایڈیٹر مسٹر الیگزینڈ رسل وب بھی تھے۔جنہوں نے حضور کے ایک اشتہار کو دیکھ کر آپ سے خط و کتابت شروع کی جس کے بعد بالآخر وہ دین حق قبول کرنے پر تیار ہو گئے۔اور امریکہ کی تاریخ میں دین حق کی تبلیغ واشاعت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔مسٹر محمد الیگزینڈ روب 1846ء میں امریکہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ایک مشہور صحافی اور ایک اخبار کے مدیر تھے اس لئے آپ نے بھی کالج کی تعلیم کے بعد صحافت ہی کے میدان کا انتخاب کیا اور ایک اخبار جاری کر کے عوام میں مقبولیت حاصل کی۔ادب اور صحافت کے میدانوں میں آپ کی غیر معمولی قابلیت دیکھ کر بعض دیگر مشہور اخبار بھی آپ کے سپرد کئے گئے جن کا نظم ونسق آپ نے بڑی عمدگی سے چلایا۔ان کی علمی شہرت اور قابلیت جلد ہی حکومت کی نظروں میں بھی آگئی اور انہیں فلپائن میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا گیا۔1872ء میں یہ عیسائیت سے متنفر ہو کر سچائی کی تلاش میں دیگر مذاہب کا مطالعہ کرنے لگے اور اسی دوران حضور کے ایک اشتہار کو دیکھ کر دین حق کی طرف مائل ہوئے اور بالآخر مسلمان ہو گئے۔۲۱۔حضور کی ایک قہری پیشگوئی پوری ہوتی ہے حضرت اقدس مسیح موعود کے خاندان میں آپکے چچازاد بھائی مرزا نظام الدین، مرزا امام دین اور ان کے لگے بندھے مرزا احمد بیگ وغیرہ دین کے اشد ترین مخالف تھے۔یہ لوگ دین اور حضرت محمد مصطفی کے بارے میں ایسے ایسے ناپاک کلمات زبان پر