روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 24 of 104

روشنی کا سفر — Page 24

بیگم کا اپنا بیٹا مرزا محمد اسحاق بھی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو کر اس پیشگوئی کی سچائی ثابت کر گیا۔مخالفین کی طرف سے گواس پیشگوئی کے متعلق بہت باتیں بنائی جاتی ہیں لیکن ان تمام لوگوں کا جو محمدی بیگم کے قریبی ترین رشتہ دار تھے احمدیت قبول کرنا اور ان کا اور ان کے خاوند کا اس پیشگوئی کی سچائی کو تسلیم کرنا صاف بتاتا ہے کہ یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جو بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہو کر دین کی صداقت پر گواہ بن گئی ہے۔کوئی بے وقوف اس پر لا کھ اعتراض کرے اس کی شان میں کمی واقع نہیں ہوسکتی۔خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ۲۲۔لدھیانہ میں پہلی بیعت حضرت مسیح موعود کے بہت سے مخلص احباب مختلف مواقع پر آپ سے بیعت کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے لیکن حضور نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ مجھے ابھی اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی علم نہیں دیا گیا اس لئے تکلفاً بیعت لینا میں جائز نہیں سمجھتا لیکن 1888 ء کی پہلی سہ ماہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہاما آپ کو خلصین کی بیعت لینے کا ارشاد ہوا جس کے بعد یکم دسمبر 1888ء کو آپ نے بیعت لینے کے لئے اشتہار شائع فرمایا۔بیعت لینے کیلئے لدھیانہ کا مقام منتخب ہوا اور یہاں آ کر آپ حضرت صوفی احمد جان صاحب کے مکان پر ٹھہرے جو محلہ جدید لدھیانہ میں واقع تھا۔آپ نے یہاں سے 4 مارچ 1889ء کو ایک اور اشتہار شائع فرمایا جس میں بیعت کی اغراض اور ضرورت کے بارے میں سمجھایا اور بیعت کے خواہش مند ا حباب کو 20 مارچ کولدھیانہ پہنچنے کا ارشاد فرمایا۔اس اشتہار کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں سے مخلصین بیعت کرنے کے لئے لدھیانہ پہنچ گئے جہاں 23 مارچ 1889ء کو پہلی بیعت صوفی احمد جان صاحب کے مکان پر لی گئی۔سب سے پہلے بیعت کرنے کی سعادت مردوں میں سے حضرت مولانا نورالدین صاحب کو حاصل ہوئی جن کے بعد پہلے دن کل 40 افراد نے بیعت کی۔مردوں سے بیعت لینے کے بعد حضور گھر میں آئے تو بعض عورتوں نے بھی بیعت کی۔یہ وہ تاریخ ساز دن تھا جس دن ایک نئی زمین اور نیا آسمان بننے کی بناء پڑی ایک ایسی جماعت کا قیام ہوا جو دین حق کی سربلندی اور حق وصداقت کی تبلیغ کیلئے قائم کی گئی تھی۔یہ بیعت 23 مارچ1889ء کے روز شروع ہوئی۔حضور کی خواہش تھی کہ بیعت کرنے والوں کے نام اور پتے ایک رجسٹر میں محفوظ کر لئے جائیں اس لئے آپ نے حکم دیا کہ ہر بیعت کرنے والا اپنا نام و پستہ ایک کاغذ پر لکھ کر دے دے۔ناموں کا اندراج کر کے ایک رجسٹر تیار کیا گیا۔جس پر لکھا گیا۔بیعت تو بہ برائے حصول تقویٰ و طہارت