روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 101 of 104

روشنی کا سفر — Page 101

اطہر ہے اور جہاں ہمارے بھائی انتظار میں ہیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی معیت میں تمام حاضرین باغ میں پہنچے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کو جماعت نے متفقہ طور پر پہلے خلیفہ کے طور پر منتخب کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔آپ نے پہلے خطاب میں فرمایا۔” میری چھلی زندگی پر غور کرلو۔میں کبھی امام بنے کا خواہشمند نہیں ہوا۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم امام الصلوۃ بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تئیں سبکدوش خیال کیا تھا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا رب مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے۔میں دنیا میں ظاہر داری کا خواہشمند نہیں۔میں ہرگز ایسی باتوں کا خواہشمند نہیں۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔اس خواہش کے لئے میں دعائیں کرتا ہوں اور قادیان میں بھی اسی لئے رہتا ہوں اور رہوں گا۔میں نے اسی فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہوگی اس لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جائے۔حضرت صاحب کے اقارب میں اس وقت تین آدمی موجود ہیں۔اوّل میاں محمود احمد وہ میرا بھائی بھی ہے بیٹا بھی اس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔قرابت کے لحاظ سے میر ناصر نواب صاحب ہمارے اور حضرت کے ادب کا مقام ہیں۔تیسرے قریبی نواب محمد علی خاں صاحب ہیں۔اسی طرح خدمت گذاران دین میں سے۔اور بھی کئی ( احباب۔ناقل ) ہیں۔پس میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن عمائد کا نام لیا ہے ان میں سے کوئی منتخب کر لو میں تمہارے ساتھ بیعت کرنے کو تیار ہوں۔اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشارتاً فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔اس کے بعد میری ساری عزت اور سارا خیال انہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا۔پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے۔آخر میں فرمایا:۔اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوع و کر ہا اس بوجھ کو اٹھا تا ہوں۔“ وہ بیعت کی دس شرائط بدستور موجود ہیں۔ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتا فوقتا اللہ میرے دل میں ڈالے شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی۔اور میں اس بوجھ کوصرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا ولتكن منكم امة يدعون الى الخير۔یادرکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس کا کوئی رئیس نہیں وہ امت مرچکی۔تدفین