روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 102 of 104

روشنی کا سفر — Page 102

99 - مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے بیعت خلافت ہو چکی تو حضرت خلیفہ امتع الاول نے کچھ وقفہ بعد نماز جناز و پڑھائی۔اس وقت رقت کا یہ عالم تھا کہ ہر اصبح طرف سے گریہ وزاری کی آواز اٹھ رہی تھی۔نماز عصر کے بعد سب خدام نے یکے بعد دیگرے حضور کے نورانی چہرہ کا آخری بار دیدار کیا۔حضرت اقدس کا جسدِ مبارک اس وقت اس مکان کے درمیانی کمرہ میں جنوبی دیوار کے دونوں مغربی دروازوں کے درمیان رکھا ہوا تھا جو بہشتی مقبرہ کے شمال مغرب کی طرف ہے۔یعش مبارک اس چار پائی پر رکھی ہوئی تھی جو لا ہور سے ساتھ لائی گئی تھی۔پہلے مردوں نے پھر مستورات نے زیارت کی۔احباب صحن کی طرف مغربی دیوار کے جنوبی حصہ میں لگے ہوئے دروازہ سے صحن اور صحن سے کمرہ میں آتے اور زیارت کر کے کمرہ کے شمالی دروازہ سے باہر نکلتے جاتے۔حضور کے چہرہ مبارک پر نور برس رہا تھا اور جسم مقدس پر گرمی کے اثرات کا کچھ بھی اثر نہ تھا۔حضرت اماں جان اس وقت صحن کے جنوب مغربی حصہ میں خواتین کے مجمع میں تشریف فرما تھیں۔آخری زیارت کے بعد فش مبارک صحن کے مشرقی دروازے سے نکال کر مدفن ایک بہائی گئی اور کوئی چھ بجے کے قریب حضور کا جسد مبارک اشکبار آنکھوں اور غمزدہ دلوں کے ساتھ بہشتی مقبرہ کی خاک مقدس کے سپرد کر دیا گیا۔۱۰۰ حضور کی خدمات کے بارے میں غیروں کا اعتراف حق۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسی بین الاقوامی شخصیت کا انتقال جس نے مذہبی دنیا میں اپنے فولادی قلم زبر دست مقناطیسی جذب و کشش، مقدس تعلیمات اور غیر معمولی قوت قدسی کے ساتھ ربع صدی سے زائد عرصہ تک تہلکہ مچائے رکھا کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا کہ اس پر خاموشی اختیار کی جاسکتی۔ادھر یہ چونکا دینے والی خبر سنی گئی ادھر ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پریس میں ایک شور پڑ گیا اور اخبارات نے حضور کی وفات کی خبر شائع کرتے ہوئے آپ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ان اخبارات میں مسلمان ہندو اور عیسائی وغیرہ ہر قسم کے مکتبہ خیال کے لوگ شامل تھے۔ہندوستان کے جن مسلم اخبارات نے اس موقعہ پر تبصرے شائع کئے ان میں سے اخبار ” وکیل امرتسر ” البیان لکھنؤ تہذیب نسواں لا ہور اخبار کرزن گزٹ دہلی ”البشیر اٹاوہ یونین گزٹ بریلی میونسپل گزٹ لاہور ” علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ ” صادق الاخبار ریواڑی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔