ضیاءالحق — Page 294
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۴ ضیاء الحق کی تائید کی ۔ پس چونکہ اس کا کام آگ کا بھڑ کانا اور مسلمانوں کو دھو کہ میں ڈالنا تھا اس لئے اس کا نام ابولہب ہوا، کیونکہ لَهَبُ زبانہ آتش کو کہتے ہیں اور لسان عرب میں ایک چیز کے موجد کو اس کا باپ قرار دے دیتے ہیں پس چونکہ فتنہ کی آتش کا زبانہ اس شخص سے پیدا ہوا ہے جس کا پیشگوئی میں ذکر ہے اس لئے وہ اس زبانہ آتش کا باپ ہوا اور ابو لهب کہلایا اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس جگہ ابو لهب سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی ہے واللہ اعلم کیونکہ اس نے کوشش کی کہ فتنہ کو بھڑ کا وے ۔ اور یہ جو فر مایا کہ اگر دخل دیتا تو چاہیے تھا کہ ڈرتے ڈرتے دخل دیتا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی بات کسی مجد د وقت (۳۳) کی کسی کو سمجھ نہ آوے تو کچھ مضائقہ نہیں کہ ڈرتے ڈرتے نیک نیتی اور پاک دل کے ساتھ اس مسئلہ میں بحث کرے ۔ مگر عداوت اور بد زبانی تک اس معاملہ کو نہ پہنچا دے کہ انجام اس کا سلب ایمان اور اَبُو لَهَبُ کا خطاب ہے ۔ اور پھر فرمایا کہ اس فتنہ میں جو تجھے ایذا پہنچے گی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے کیونکہ ہمیشہ ترقی مدارج ابتلا ہی سے ہوتی ہے ، ضرور ہے کہ مومن آزمایا جائے اور اس کو دیکھ دیں اور طرح طرح کی باتیں اس کے حق میں کہیں اور اس سے ہنسی اور ٹھٹھہ ہو ، جب تک کہ تقدیر اپنے وقت مقدر تک پہنچ جائے ۔ اب حضرات منصفین اس پیشگوئی پر بھی انصافا نظر ڈالیں کہ یہ قریباً سولہ برس سے کتاب بَرَاهِين اَحْمَدِيَّه میں چھپ کر تمام پنجاب ہندوستان اور عرب تک شائع ہو چکی ہے ۔ کیا یہ صاف اور صریح لفظوں میں اس واقعہ کی خبر نہیں دیتی جس میں عیسائیوں کے ساتھ یہودی صفت علماء نے اپنے