ضیاءالحق — Page 295
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۵ ضیاء الحق مکر کا پیوند کیا ، کیا یہ پیشگوئی اس واقعہ عظیمہ کی خبر نہیں دیتی جس کی طرف حدیث نے اشارہ کیا تھا۔ پس ایک عقلمند کے لئے آثار نبویہ اور یہ الہام حق الیقین تک پہنچانے والا ہے ۔ اور جو شرط آتھم کے مقابلہ پر الہام میں درج کی گئی ۔ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس غرض سے تھی کہ وہ دلوں کو پر کھے اور آزما دے اور انسانی عقلوں کا غرور توڑے اور تا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے جو تیرہ سو برس پہلے اس زمانہ سے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اور تا وہ الہام بھی پورا ہو جو اس وقت سے سولہ برس پہلے براهین احمدیہ میں درج اور شائع ہو چکا تھا۔ پس دانشمندوں کے لئے یہ خوشی کا موقعہ تھا کہ آتھم کے مقابلہ پر جو پیشگوئی کی گئی ۔ اس کی تقریب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی بھی پوری ہوئی۔ منصفو! اب پھر نظر اٹھاؤ اور سوچ لو کہ جبکہ پیشگوئی میں رجوع الی الحق کی صریح شرط موجود تھی اور آتھم سے وہ بد حواسی وہ سراسیمگی وہ سرگردانی اور خوف زدہ حالت ظہور میں آئی تھی کہ وہ اس مواخذہ کے نیچے آ گیا تھا کہ کیوں اس قد رقلق اور کرب اس نے ظاہر کیا اور اس قدر اس کے ہراساں ہونے کی (۳۵) جا بجا شہرت پھیل گئی تھی کہ آخر میعاد گذر نے کے بعد خود اس کو فکر پڑ گئی کہ میں اس خوف اور گریہ وزاری اور جزع فزع کو کسی طرح چھپا نہیں سکتا جو مجھ سے میعاد کے اندر ظاہر ہوتا رہا۔ اس لئے نہ خوشی اور آزادی سے بلکہ مجبور ہو کر اس کو خوف کا اقرار کرنا پڑا اور اس حد تک تو اس نے سچ بولا کہ مجھ کو تین نظارے نظر آئے مگر آگے چل کر قوم کی رعایت سے جھوٹ