ضیاءالحق — Page 293
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۳ ضیاء الحق بلا شبہ وہ اس حدیث کا مصداق ٹھہر گئے ۔ غرض اس واقعہ کی صحت کی یہ حدیث بھی ایک گواہ ہے جو گیارہ سو برس سے کتابوں میں درج ہو چکی ہے ۔ اور اسی واقعہ پر ایک اور گواہ ہے یعنی ہمارا وہ الہام جو براھین میں درج ہے ﴿۳۳) جس کو قریباً سولہ برس گزر چکے ہیں اور اس کی عبارت یہ ہے وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدَ اللهُ الصَّمَدُ لَم يَلِدْ وَ لَمْ يُولَدْ وَ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ وَيَمْكُرُونَ وَيَمُكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ الْفِتْنَةُ هَهُنَا فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ۔ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّ تَبَّ مَا كَانَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِيهَا إِلَّا خَائِفًا وَ مَا أَصَابَكَ فَمِنَ اللهِ یعنی یہود [ ان سے مراد اس جگہ یہودی صفت علماء ہیں ] اور نصاری جن پر ہر ایک فتنہ آخری زمانہ کا ختم ہوا ہر گز تجھے سے راضی نہ ہوں گے جب تک تو انہیں کے خیالات کا تابع نہ ہو، ان کو کہہ دے کہ خدا ایک ہے اس کی ذات اور صفات کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں نہ اس طرح پر جو عیسائی کہتے ہیں اور نہ اس طرح پر کہ جو یہودی صفت مسلمان مسیح میں غلو کر کے کہتے ہیں نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا نہ اس کا کوئی ہم کفو اور یہ مسلمان یہودی صفت اور نیز عیسائی آئندہ تجھ سے ایک مکر کریں گے اور خدا بھی ان سے ایک مکر کرے گا اور خدا کا مکر بہتر یعنی چل جانے والا ہے۔ اس وقت ان یہودی صفت مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرف سے بالا تفاق ایک فتنہ ہوگا سو تو اس وقت صبر کر جیسا کہ اولوالعزم رسول صبر کرتے رہے۔ ابولہب کے ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بھی ہلاک ہو گیا ۔ اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس فتنہ کے درمیان آتا ، مگر ڈرتا ڈرتا ۔ ابولہب سے مراد وہ شخص ہے جس نے فتنہ کی آگ کو مسلمانوں میں بھڑ کا یا اور اہل اسلام کو کا فرقرار دیا اور عیسائیوں