ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 581

ضیاءالحق — Page 285

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۸۵ ضياء الحق خوف کے وقت صادر ہوا کرتی ہیں ۔ اور وہ نظارے ان کو نظر آویں جو شدت خوف کے وقت نظر آیا کرتے ہیں ۔ مگر انہوں نے انسانی حملوں کا کیا ثبوت دیا جو اب ان کی خوف کی بنیا د قرار دئیے گئے ہیں ۔ پھر جس حالت میں کچھ بھی ثبوت نہیں دیا تو کیا یہ بے جا مطالبہ تھا کہ وہ اپنی بریت ظاہر کرنے کے لئے قسم کھا لیتے سو اب وہ دنیا پرست مولوی جو عیسائیوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ہمیں جواب دیں کہ انہوں نے کیوں ہماری عداوت کے لئے اپنا منہ کالا کیا ۔ کیا یہی منہ کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا ئیں گے جن کے دین کی تکذیب کے لئے نا حق بے موجب وہ شریک ہوئے ۔ کیا وہ قسم کھا سکتے ہیں کہ ان کے نزدیک آتھم ہی سچا ہے ۔ ایسے معرکہ کے مطالبہ میں آتھم کا قسم نہ کھانا ایک قسم کی موت تھی جو اس پر وارد ہو گئی ۔ اور وہ بینہ کے ساتھ بے شک ہلاک ہو گیا اور جو بار ثبوت اس کے ذمہ تھا وہ اس سے سبکدوش نہ ہو سکا اور جسمانی موت بھی شوخی کے بعد ٹل نہیں سکتی لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللهِ افسوس کہ ہمارے بعض مولویوں اور ان کے نالائق چیلوں نے جو نام کے مسلمان تھے اس جگہ اپنی فطرتی بدذاتی سے بار بار حق کی تکذیب کی اور اسلام کی مخالفت میں یہ سیاہ دل اور شریر مولوی عیسائیوں سے کچھ کم نہ رہے اور بہت ہی زور لگایا کہ کسی طرح اسلام کو سبکی پہنچے اور جاہل مسلمان جو چار پایوں کی طرح تھے ان کے دلوں میں جما دیا کہ اس شخص یعنی اس عاجز نے اسلام کو بدنام کیا اور شکست دلوائی۔ ناظرین! اب یہ تمام مقدمات اور واقعات آپ لوگوں الانعام: ۳۵