ضیاءالحق — Page 280
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۸۰ ضیاء الحق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ان سے پیار کرتا ہوں کہ جو گناہ اور خطا کا طریق چھوڑ کر حق کی طرف قدم اٹھاتے ہیں ۔ پس جس سے خدا پیا ر کرے ضرور اس سے تمام نیک بندے پیار کریں گے کیونکہ نیک روحوں کا پیار خدا کے پیار ۲۴ کے تابع ہے ۔ سو مبارک وہ جو خدا تعالیٰ کی مرضی کی راہیں ڈھونڈے ۔ اور زید و بکر کی بک بک کی کچھ پرواہ نہ رکھے ۔ اب میرے دوستو ذرہ نظر اٹھا کر دیکھو اور اپنی کانشنس اور نرم قلب سے فتویٰ لو اور ذرا نظر اور فکر کو ہشیاری اور بردباری کے ساتھ دوڑا کر دیکھو کیا آتھم کا طریق اور روش اس کی سچائی پر دلالت کر رہا ہے ۔ کیا تمہارے دل ان باتوں کو قبول کرتے ہیں کہ ضرور آتھم پر بمقام امرتسر کسی تعلیم یافتہ سانپ نے حملہ کیا تھا۔ اور ضرور ہماری جماعت کے بعض لوگ تلواروں اور نیزوں کے ساتھ لدھیانہ اور فیروز پور میں اس کی کوٹھی میں قتل کرنے کے لئے جا گھسے تھے ۔ کیا آپ لوگوں کی روحیں اس بات کو مانتی ہیں کہ باوجود اس مذہبی مقدمہ کے جس کی بنیاد پر یہ مباحثہ شروع ہوا تھا یعنی ایک شخص اسماعیل نام کا عیسائی ہونے سے رک جانا اور اس اشتعال سے عیسائیوں کا مباحثہ کرنا اور پھر پیشگوئی کی صداقت مٹانے کے لئے یہ جھوٹی تاویلیں کرنا کہ ڈاکٹر کی قطعی رائے ہے کہ چھ مہینے کے اندر آتھم مر جائے گا ۔ ایسے لوگ جنہوں نے مذہبی ہار جیت کے خیال سے پہلے ہی جھوٹی تاویلیں شروع کر دیں اور فتح کے حریص رہے وہ واقعی طور پر تین حملے ہماری جماعت کی طرف سے دیکھیں اور حملے بھی وہ جو ایسے شخص کے قتل کرنے کے ارادہ سے ہوں جو عیسائی پارٹی کا سر ہو ۔ اور پھر یہ حضرات عیسائیاں