ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 581

ضیاءالحق — Page 279

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۷۹ ضیاء الحق نه انسان اور درندہ ہے نہ آدمی لیکن نیک آدمی ایک پاک خیال کے ساتھ سوچتا ہے اور اس کا حکمت اور حق کے ساتھ کلام ہوتا ہے نہ ٹھٹھے اور جنسی کے رنگ میں اور وہ صداقت اور انصاف کے پاک جذب سے بولتا ہے نہ غضب اور غصہ کی کشش سے اس لئے خدا اس کی مدد کرتا ہے اور روح القدس اس کے دل پر روشنی ڈالتا ہے لیکن نا پاک دل اور گندی طبیعت والا سچائی کے استخراج کے لئے کچھ بھی کوشش نہیں کرتا اور ایک دھو کا جو پہلے دن سے ہی اس کو لگ جاتا ہے اس کی پیروی کرتا ؟ تا چلا جاتا ہے اور پھر تعصب اور کج بحثی کی وجہ سے خدا تعالیٰ اس کے دل کا نور چھین لیتا ہے اور اس کا پچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ مگر نیک سرشت آدمی اپنی رائے کے بدلنے سے ہرگز نہیں ڈرتا ۔ جب دیکھتا ہے کہ ایک صداقت کی تکذیب میں مجھ سے غلطی ہوئی تو اس کا بدن کانپ جاتا ہے اور آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور سچائی کے خون سے اس مجرم سے زیادہ ڈرتا ہے جس نے ایک بے گناہ اور معصوم بچہ کو نا حق قتل کر دیا ہو ۔ سو خدا جو کریم و رحیم ہے اسے قبول کر لیتا ہے اور اس کی عظمت دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ مجلس میں ایک شخص بہا در دل کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے بولا کہ صاحبو میں فلاں امر میں غلطی پر تھا ۔ اور جو کچھ میں نے ایک مدت تک بحثیں کیں یا جو کچھ میں نے مخالفت ظاہر کی وہ سب نادرست امر تھا ۔ اب میں اس سے محض اللہ رجوع کرتا ہوں ۔ ایسے شخص کی ایک ہیبت دلوں میں طاری ہو جاتی ہے اور ولایت کا نور اس کے چہرہ پر دکھائی دیتا ہے اور دل بول اٹھتا ہے کہ یہ شخص متقی اور قابل تعظیم ہے ۔