ضیاءالحق — Page 264
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۴ ضیاء الحق بھوت کو بھی دیکھ لیتے ہیں ۔ اور حقیقت یہ ہوتی ہے کہ جب اندھیری رات اور تنہائی اور قبرستان کے بیابان میں دل پر خوف غالب ہوا اور پر دہشت تخیلات زمانہ آتش کی طرح اڑنے لگے تو پھر کیا تھا فی الفور آنکھوں کے سامنے ایک دیو مہیب شکل کے ساتھ حاضر ہو گیا ۔ اور شکل یہ دکھائی دی کہ گویا ایک کالا بھوت دور سے دوڑا چلا آتا ہے جس کی شکل نہایت ہولناک ایک پہاڑ کا پہاڑ کو نہ گردن سیاہ رنگ چوٹی آسمان پر پیر زمین پر موٹے موٹے ہونٹ زرد زرد دانت اور پھر بہت لمبے اور باہر نکلے ہوئے چپٹی ناک دیا ہوا ما تھا ۔ سرخ سرخ آنکھیں باہر نکلی ہوئیں ۔ سر پر لمبے دو سینگ مونہہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں ۔ پس جبکہ ایسی حالتوں میں بھوت بھی نظر آ جایا کرتے ہیں ۔ پھر اگر آتھم صاحب نے سانپ دیکھ لیا تو کیا غضب ہوا ۔ ایسا سانپ دیکھنے سے کون انکار کرے گا کلام تو اس میں ہے کہ کوئی تعلیم یافتہ سانپ کسی انسان نے چھوڑا تھا ۔ جو آتھم صاحب کی شکل و شباہت سے خوب واقف تھا۔ افسوس کہ آتھم صاحب نے اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا ۔ کاش وہ قسم ہی کھا لیتے تا وہ اسی طرح اپنے تئیں اس الزام سے بری کرتے جوان بناوٹ کی باتوں سے ان پر عائد ہو گیا ہے ۔ مگر خیر ہم اب بھی ان کے بکلی مکذب نہیں ۔ ہمارا تو ایمان ہے کہ ضرور ان کو سانپ نظر آیا تھا ۔ مگر یہ سانپ انہیں کے تخیلات کا نتیجہ تھا۔ اور اس بات پر قطعی دلیل تھا کہ پیشگوئی کی پوری عظمت ان کے دل پر طاری ہو گئی تھی ۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح یونس کی قوم کو ملا تک عذاب کے تمثلات میں دکھائی دیئے تھے اسی طرح ان کو بھی سانپ وغیرہ