ضیاءالحق — Page 263
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۳ ضیاءالحق حقیقت کیا رکھتا ہے ۔ غرض یہ پہلا الزام ہے یا یوں کہو کہ یہ وہ پہلا غیبی حملہ ہے جس کے معنے ہم میں اور عیسائیوں میں متنازعہ فیہ ہیں جس میں ہمارے مخالف مولوی اور ان کے اوباش چیلے بھی عیسائیوں کے ساتھ ہیں۔ مگر آتھم صاحب نے اس تعلیم یافتہ سانپ کا اور نیز اس بات کا کہ وہ ہماری طرف سے چھوڑا گیا تھا اب تک کوئی ثبوت نہیں دیا ۔ اور ہم ابھی معقولی طور پر بیان کر چکے ہیں کہ یہ سانپ ہر گز با ہر سے نہیں آیا بلکہ آتھم صاحب کے ہی دل و دماغ سے نکلا تھا ۔ چونکہ آتھم صاحب کے دل پر پیشگوئی کا نہایت قومی اثر ہو چکا تھا اور ہر وقت ایک شدت خوف اس کی نظر کے سامنے رہتا تھا ۔ اس لئے ضرور تھا کہ کوئی خوفناک نظارہ بھی ان کی آنکھوں کے سامنے پھر جائے لہذا ان کی دہشت زده متخیلہ کو خونی سانپ نظر آ گیا جس کو عربی میں حیہ کہتے ہیں کیونکہ سانپ انسان کی نسل کا پہلا اور ابتدائی دشمن ہے اور بزبان حال کہتا ہے کہ حــى عـلـى الْمَوتِ یعنی موت کی طرف آجا اس لئے اس کا نام حیہ ہوا ۔ پس چونکہ سانپ موت کا اوتار ہے اس لئے آتھم صاحب کو پہلے یہی دکھائی دیا۔ جس کا آتھم صاحب نے نورافشاں میں رو رو کر اقرار کیا ہے کہ ضرور میں موت سے ڈرتا رہا پس ایسے ڈرنے والے کو اگر سانپ نظر آ گیا تو کوئی حقیقت شناس اس سے تعجب نہیں کرے گا۔ اور ایسا نظارہ آتھم صاحب پر ہی کچھ حصر نہیں رکھتا بلکہ یہ تو عام قانون قدرت ہے کہ شدت خوف کے وقت ایسے انجو بے ضرور دکھائی دیا کرتے ہیں بھلا یہ تو سانپ ہے بعض لوگ کمال خوف کے وقت جب وہ اندھیری رات میں اکیلے چلتے ہیں