ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 581

ضیاءالحق — Page 265

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۵ ضیاء الحق حمثلات دکھائی دئے مگر ساتھ ہی ضروری طور پر اس بات کو مانا پڑتا ہے کہ جس شخص کا خوف ایک مذہبی پیشگوئی سے اس حد تک پہنچ جائے کہ اس کو سانپ وغیرہ ہولناک چیزیں نظر آویں یہاں تک کہ وہ ہراساں اور ترساں اور پریشان اور بے تاب اور دیوانہ سا ہو کر شہر بشہر بھاگتا پھرے ۔ اور سراسیموں اور خوف زدوں کی طرح جابجا بھٹکتا پھرے ایسا شخص بلا شبہ یقینی یا نلنی طور پر اس مذہب کا مصدق ہو گیا ہے جس کی تائید میں وہ پیشگوئی کی گئی تھی ۔ اور یہی معنی رجوع الی الحق کے ہیں ۔ اور یہی وہ حالت ہے جس کو بالضرور رجوع کے مراتب میں سے کسی مرتبہ پر محمول کرنا چاہیے ۱۳ ہے اور میں جانتا ہوں کہ آتھم صاحب کا اس پیشگوئی سے جو دین اسلام کی سچائی کے لئے کی گئی تھی جس کے ساتھ رجوع بحق کی شرط بھی تھی اس قدر ڈرنا کہ سانپ نظر آنا اور تیروں اور تلواروں والے دکھائی دینا یہ ایسے واقعات ہیں جو ہر ایک دانشمند جو ان کو نظر یکجائی سے دیکھے گا وہ بلا تامل اس نتیجہ تک پہنچ جائے گا کہ بلا شبہ یہ سب باتیں پیشگوئی کے پُر زور نظارے ہیں ۔ اور جب تک کسی کے دل پر ایسا خوف مستولی نہ ہو جو کمال درجہ تک پہنچ جائے تب تک ایسے نظاروں کی ہرگز نوبت نہیں آتی جو شخص مکذب اسلام ہو اور حضرت عیسی کے دور تک ہی الہام پر مہر لگا چکا ہو کیا وہ اسلامی پیشگوئی سے اس قدر ڈ ر سکتا ہے بجز اس صورت کے کہ اپنے مذہب کی نسبت شک میں پڑ گیا ہوا اور عظمت اسلامی کی طرف جھک گیا ہو۔ اگر با وجود ان قرائن کے پھر بھی آتھم صاحب کو ان کی حق پوشی پر نہ پکڑا جائے اور بہت ہی نرمی کی جاوے تا ہم یہ مطالبہ انصافاً اُن کے ذمہ باقی رہتا ہے کہ جب کہ وہ اپنے خوف کے وجوہات کو یعنی تین حملوں کو اس