ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 630

ضرورة الامام — Page 492

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۲ ضرورة الامام کی نسبت ہمارا زمانہ پر میشر کے تازہ الہامات کا بہت محتاج تھا۔ پھر اگر الہام ایک حقیقت حقہ ہے تو وید کے بعد اس کا سلسلہ کیوں قائم نہیں رہا۔ اسی وجہ سے آریہ ورت میں دہریت پھیل گئی ۔ اسی لئے صد با فرقے ہندوؤں میں ایسے پاؤ گے جو وید سے ٹھٹھا کرتے اور اس سے انکاری ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک جین مت کا فرقہ ہے اور در حقیقت سکھوں کا فرقہ بھی انہی خیالات کی وجہ سے ہندوؤں سے الگ ہوا ہے ۔ کیونکہ ایک تو ہندو مذہب میں دنیا کی صدہا چیزوں کو خدا کے ساتھ شریک کیا گیا ہے اور اس قدر شرک کا انبار ہے جس میں پر میشر کا کچھ پتہ نہیں ملتا اور پھر جو دید کے الہامی ہونے کا دعویٰ ہے۔ ی محض بلا ثبوت ایک قصہ ہے جس کو لاکھوں برسوں کی طرف حوالہ دیا جاتا ہے۔ تازہ ثبوت کوئی نہیں ۔ اسی سبب سے جو پورے سکھ ہیں وہ وید کو نہیں مانتے ۔ چنانچہ اخبار عام لاہور ۲۶ ستمبر ۱۸۹۸ء میں ایک سکھ صاحب کا ایک مضمون اسی بارے میں شائع ہوا ہے اور انہوں نے اس بات کی تائید میں کہ خالصہ کا گروہ وید کو نہیں مانتا اور ان کو گوروؤں کی طرف سے ہدایت ہے کہ وید کو ہرگز نہ مانیں ۔ گرنتھ کے شبد یعنی شعر بھی لکھے ہیں جن کا (۲۲) ماحصل یہی ہے کہ وید کو ہرگز نہ ماننا اور اقرار کیا ہے کہ ہم لوگ وید کے ہرگز پیرو نہیں ہیں اور نہ اس کو قبول کرتے ہیں۔ ہاں اس نے قرآن شریف کی پیروی کا بھی اقرار نہیں کیا مگر اس کا یہ سبب ہے کہ سکھوں کو اسلام کی واقفیت نہیں ہے اور وہ اس نور سے بے خبر ہیں ۔ جو خدائے قادر قیوم نے اسلام میں رکھا ہوا ہے اور باعث بے علمی اور تعصب کے ان کو ان نوروں پر اطلاع بھی نہیں ہے کہ جو قرآن شریف میں بھرے پڑے ہیں بلکہ جس قد رقومی طور پر ہندوؤں سے ان کے تعلق ہیں مسلمانوں سے یہ تعلقات نہیں ہیں۔ ورنہ ان کے لئے یہی کافی تھا کہ اس وصیت پر چلتے کہ جو چولہ صاحب میں بادانا تک صاحب تحریر فرما گئے ہیں کیونکہ چولہ صاحب میں باوا صاحب یہ لکھ گئے ہیں کہ اسلام کے سوا کوئی مذہب صحیح اور سچا نہیں ہے۔ پس ایسے بزرگ کی اس ضروری وصیت کو ضائع کر دینا نہایت قابل افسوس بات ہے خالصہ صاحبوں کے ہاتھ میں صرف ایک چولہ صاحب ہی ہے جو