ضرورة الامام — Page 493
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۳ ضرورة الامام با واصاحب کے ہاتھوں کی یادگار ہے۔ اور گرنتھ کے شبد تو بہت پیچھے سے اکٹھے کئے گئے ہیں جس میں محققوں کو بہت کچھ کلام ہے۔ خدا جانے اس میں کیا کیا تصرفات ہوئے ہیں اور کن کن لوگوں کے کلام کا ذخیرہ ہے۔ خیر یہ قصہ اس جگہ کے لائق نہیں ہے۔ ہمارا اصل مطلب تو یہ ہے کہ بنی نوع انسان کا ایمان تازہ رکھنے کیلئے تازہ الہامات کی ہمیشہ ضرورت ہے۔ اور وہ الہامات اقتداری قوت سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ خدا کے سوا کسی شیطان جن بھوت میں اقتداری قوت نہیں ہے۔ اور امام الزمان کے الہام سے باقی الہامات کی صحت ثابت ہوتی ہے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ امام الزمان اپنی جبلت میں قوت امامت رکھتا ہے اور دست قدرت نے اس کے اندر پیشروی کا خاصہ پھونکا ہوا ہوتا ہے۔ اور یہ سنت اللہ ہے کہ وہ انسانوں کو متفرق طور پر چھوڑنا نہیں چاہتا بلکہ جیسا کہ اس نے نظام شمسی میں بہت سے ستاروں کو داخل کر کے سورج کو اس نظام کی بادشاہی بخشی ہے ایسا ہی وہ عام مومنوں کو ستاروں کی طرح حسب مراتب روشنی بخش کر امام الزمان کو ان کا سورج قرار دیتا ہے اور یہ سنت الہی یہاں تک اس کی آفرینش میں پائی جاتی ہے کہ شہد کی مکھیوں میں بھی یہ نظام موجود ہے کہ ان میں بھی ایک امام ہوتا ہے جو یعسوب کہلاتا ہے ۔ اور جسمانی سلطنت میں بھی (۲۳) یہی خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک قوم میں ایک امیر اور بادشاہ ہو۔ اور خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہے جو تفرقہ پسند کرتے ہیں اور ایک امیر کے تحت حکم نہیں چلتے ۔ حالانکہ الله جل شانہ فرماتا ہے۔ اَطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ یا اُولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔ اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اُولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں النساء : ۶۰