ضرورة الامام — Page 491
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۱ ضرورة الامام عیسائیوں نے بھی الہام کو بے مہر رہنے نہ دیا۔ گویا حضرت مسیح تک ہی انسانوں کو ذاتی بصیرت اور معرفت حاصل کرنے کیلئے چشم دید الہاموں کی حاجت تھی ۔ اور آئندہ ایسی بد قسمت ذریت ہے کہ وہ ہمیشہ کیلئے محروم ہیں۔ حالانکہ انسان ہمیشہ چشم دید ماجرا اور ذاتی بصیرت کا محتاج ہے۔ مذہب اسی زمانہ تک علم کے رنگ میں رہ سکتا ہے جب تک خدا تعالیٰ کی صفات ہمیشہ تازہ بتازہ تجلی فرماتی رہیں ورنہ کہانیوں کی صورت میں ہوکر جلد مرجاتا ہے۔ کیا ایسی نا کامی کوکوئی انسانی کانشنس قبول کر سکتا ہے۔ جب کہ ہم اپنے اندر اس بات کا احساس پاتے ہیں کہ ہم اس معرفت تامہ کے محتاج ہیں جو کسی طرح بغیر مکالمہ الہیہ اور بڑے بڑے نشانوں کے پوری نہیں ہو سکتی تو کس طرح خدا تعالیٰ کی رحمت ہم پر الہامات کا دروازہ بند کر سکتی ہے۔ کیا اس زمانہ میں ہمارے دل اور ہو گئے ہیں یا خدا اور ہو گیا ہے۔ یہ تو ہم نے مانا اور قبول کیا کہ ایک زمانہ میں ایک کا الہام لاکھوں کی معرفت کو تازہ کر سکتا ہے اور فرد فرد میں ہونا ضروری نہیں۔ لیکن یہ ہم قبول نہیں کر سکتے کہ الہام کی سرے سے صف ہی الٹ دی جائے۔ اور ہمارے ہاتھ میں صرف ایسے قصے ہوں جن کو ہم نے بچشم خود دیکھا نہیں ۔ ظاہر ۲۱ ہے کہ جبکہ ایک امر صد ہا سال سے قصے کی صورت میں ہی چلا جائے اور اس کی تصدیق کے لئے کوئی تازہ نمونہ پیدا نہ ہو تو اکثر طبیعتیں جو فلسفی رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اس قصے کو بغیر قوی دلیل کے قبول نہیں کر سکتیں۔ خاص کر جبکہ قصے ایسی باتوں پر دلالت کریں کہ جو ہمارے زمانہ میں خلاف قیاس معلوم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد ہمیشہ فلسفی طبع آدمی ایسی کرامتوں پر ٹھٹھا کرتے آئے ہیں اور شبہ کی حد تک بھی نہیں ٹھہرتے ۔ اور یہ ان کا حق بھی ہوتا ہے کیونکہ ان کے دل میں گذرتا ہے کہ جب کہ وہی خدا ہے اور وہی صفات اور وہی ضرورتیں ہمیں پیش ہیں تو پھر الہام کا سلسلہ کیوں بند ہے۔ حالانکہ تمام روحیں شور ڈال رہی ہیں کہ ہم بھی تازہ معرفت کے محتاج ہیں۔ اسی وجہ سے ہندوؤں میں لاکھوں انسان دہر یہ ہو گئے ۔ کیونکہ بار بار پنڈتوں نے ان کو یہی تعلیم دی کہ کروڑ ہا سال سے الہام اور کلام کا سلسلہ بند ہے۔ اب ان کو یہ شبہات دل میں گذرے کہ وید کے زمانہ