ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 487 of 630

ضرورة الامام — Page 487

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۸۷ ضرورة الامام عَلَيْهِمْ سُلطان لے کے صحیح معنے ہیں کیونکہ شیطان کا سلطان یعنی تسلط در حقیقت ان پر ہے جو شیطانی وسوسہ اور الہام کو قبول کر لیتے ہیں لیکن جو لوگ دور سے نور کے تیر سے شیطان کو مجروح کرتے ہیں اور اس کے منہ پر زجر اور توبیخ کا جو تہ مارتے ہیں اور اپنے منہ سے وہ کچھ بکے جائے اس کی پیروی نہیں کرتے وہ شیطانی تسلط سے مستثنیٰ ہیں مگر چونکہ ان کو خدا تعالى ملكوت السموات والارض دکھانا چاہتا ہے اور شیطان ملکوت الارض میں سے ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ مخلوقات کے مشاہدہ کا دائرہ پورا کرنے کے لئے اس عجیب الخلقت وجود کا چہرہ دیکھ لیں اور کلام سن لیں جس کا نام شیطان ہے اس سے ان کے دامن تنزہ اور عصمت کو کوئی داغ نہیں لگتا۔ حضرت مسیح سے شیطان نے اپنے قدیم طریقہ وسوسہ اندازی کے طرز پر شرارت سے ایک درخواست کی تھی سوان کی پاک طبیعت نے فی الفور اس کو رد کیا اور قبول نہ کیا۔ اس میں ان کی کوئی کسر شان نہیں ۔ کیا بادشاہوں کے حضور ۱۷ میں کبھی بدمعاش کلام نہیں کرتے ۔ سوایسا ہی روحانی طور سے شیطان نے یسوع کے دل میں اپنا کلام ڈالا ۔ یسوع نے اس شیطانی الہام کو قبول نہ کیا بلکہ رد کیا۔ سو یہ تو قابل تعریف بات ہوئی اس سے کوئی نکتہ چینی کرنا حماقت اور روحانی فلاسفی کی بے خبری ہے لیکن جیسا کہ یسوع نے اپنے نور کے تازیانہ سے شیطانی خیال کو دفع کیا اور اس کے الہام کی پلیدی فی الفور ظاہر کر دی۔ ہر ایک زاہد اور صوفی کا یہ کام نہیں ۔ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیطانی الہام مجھے بھی ہوا تھا۔ شیطان نے کہا کہ اے عبدالقادر تیری عبادتیں قبول ہوئیں اب جو کچھ دوسروں پر حرام ہے تیرے پر حلال اور نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہے جو چاہے کر۔ تب میں نے کہا کہ اے شیطان دور ہو۔ وہ باتیں میرے لئے کب روا ہو سکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روانہیں ہوئیں ۔ تب شیطان مع اپنے سنہری تخت کے میری آنکھوں کے سامنے سے گم ہو گیا ۔ اب جبکہ سید عبدالقادر جیسے اہل اللہ اور مرد فرد کو شیطانی الہام ہوا تو دوسرے عامۃ الناس جنہوں نے ابھی اپنا سلوک بھی تمام نہیں کیا۔ وہ کیونکر اس سے الحجر : ٤٣