ضرورة الامام — Page 486
۴۸۶ ضرورة الامام روحانی خزائن جلد ۱۳ ہے کہ یہ قصہ صرف انجیلوں میں ہی نہیں ہے بلکہ ہماری احادیث صحیحہ میں بھی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے: عن محمد بن عمران الصيرفى قال حدثنا الحسن بن عليل العنزي عن العباس بن عبدالواحد عن محمد بن عمرو عن محمد بن مناذر۔ عن سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن طاؤس عن ابي هريرة قال جاء الشـيـطـن الـى عيسى۔ قال الست تزعم انک صادق قال بلی قال فاوف على هذه الشاهقة فالق نفسك منها فقال ویلک الم يقل الله يا ابن ادم لا تبلنی بهلا کک فانی افعل ما اشاء - یعنی محمد بن عمران صیرفی سے روایت ہے اور انہوں نے حسن بن علیل عنزی سے روایت کی اور حسن نے عباس سے اور عباس نے محمد بن (17) عمرو سے اور محمد بن عمرو نے محمد بن مناذر سے اور محمد بن مناذر نے سفیان بن عیینہ سے اور سفیان نے عمرو بن دینار سے اور عمرو بن دینار نے طاؤس سے اور طاؤس نے ابو ہریرہ سے کہا شیطان عیسی کے پاس آیا اور کہا کہ کیا تو گمان نہیں کرتا کہ تو سچا ہے۔ اس نے کہا کہ کیوں نہیں شیطان نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو اس پہاڑ پر چڑھ جا اور پھر اس پر سے اپنے تئیں نیچے گرا دے۔ حضرت عیسی نے کہا کہ تجھ پر واویلا ہو کیا تو نہیں جانتا کہ خدا نے فرمایا ہے کہ اپنی موت کے ساتھ میرا امتحان نہ کر کہ میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ اب ظاہر ہے کہ شیطان ایسی طرز سے آیا ہوگا جیسا کہ جبرائیل پیغمبروں کے پاس آتا ہے۔ کیونکہ جبرائیل ایسا تو نہیں آتا جیسا کہ انسان کسی گاڑی میں بیٹھ کر یا کسی کرایہ کے گھوڑے پر سوار ہوکر اور پگڑی باندھ کر اور چادر اوڑھ کر آتا ہے بلکہ اس کا آنا عالم ثانی کے رنگ میں ہوتا ہے۔ پھر شیطان جو کمتر اور ذلیل تر ہے کیونکر انسانی طور پر کھلے کھلے آسکتا ہے۔ اس تحقیق سے بہر حال اس بات کو ماننا پڑتا ہے جو ڈریپ نے بیان کی ہے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے قوت نبوت اور نور حقیت کے ساتھ شیطانی القا کو ہرگز ہرگز نزدیک آنے نہیں دیا اور اس کے ذب اور دفع میں فوراً مشغول ہو گئے ۔ اور جس طرح نور کے مقابل پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی اسی طرح شیطان ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکا اور بھاگ گیا۔ یہی اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ حميد حضور کے بیان کردہ حوالہ کا ذکر ڈاکٹر ولیم ڈر پر کی کتاب A History of The intellectual Develpoment of Europe میں ہے جو 1876ء میں شائع ہوئی تھی ۔ ( ناشر )