ضرورة الامام — Page 488
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۸۸ ضرورة الامام بچ سکتے ہیں۔ اور ان کو وہ نورانی آنکھیں کہاں حاصل ہیں تا سید عبدالقادر اور حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح شیطانی الہام کو شناخت کرلیں۔ یاد رہے کہ وہ کا ہن جو عرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بکثرت تھے ان لوگوں کو بکثرت شیطانی الہام ہوتے تھے اور بعض وقت وہ پیشگوئیاں بھی الہام کے ذریعہ سے کیا کرتے تھے۔ اور تعجب یہ کہ ان کی بعض پیشگوئیاں سچی بھی ہوتی تھیں۔ چنانچہ اسلامی کتابیں ان قصوں سے بھری پڑی ہیں۔ پس جو شخص شیطانی الہام کا منکر ہے وہ انبیاء علیہم السلام کی تمام تعلیموں کا انکاری ہے اور نبوت کے تمام سلسلہ کا منکر ہے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا اور انہوں نے الہام کے ذریعہ سے جو ایک سفید جن کا کرتب تھا ایک بادشاہ کی فتح کی پیشگوئی کی۔ آخر وہ بادشاہ بڑی ذلت سے اسی لڑائی میں مارا گیا اور بڑی ۱۸) شکست ہوئی اور ایک پیغمبر جس کو حضرت جبرائیل سے الہام ملا تھا اس نے یہی خبر دی تھی کہ بادشاہ مارا جائے گا اور کتے اس کا گوشت کھائیں گے اور بڑی شکست ہوگی ۔ سو یہ خبر سچی نکلی۔ مگر اس چارشو نبی کی پیشگوئی جھوٹی ظاہر ہوئی۔ اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کہ اس کثرت سے شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں تو پھر الہام سے امان اٹھتا ہے اور کوئی الہام بھروسہ کے لائق نہیں ٹھہرتا۔ کیونکہ احتمال ہے کہ شیطانی ہو خاص کر جبکہ مسیح جیسے اولی العزم نبی کو بھی یہی واقعہ پیش آیا تو پھر اس سے تو ملہموں کی کمر ٹوٹتی ہے تو الہام کیا ایک بلا ہو جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بیدل ہونے کا کوئی محل نہیں۔ دنیا میں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ایسا ہی واقع ہوا ہے کہ ہر ایک عمدہ جوہر کے ساتھ مغشوش چیزیں بھی لگی ہوئی ہیں۔ دیکھو ایک تو وہ موتی ہیں جو دریا سے نکلتے ہیں اور دوسرے وہ سستے موتی ہیں جو لوگ آپ بنا کر بیچتے ہیں۔ اب اس خیال سے کہ دنیا میں جھوٹے موتی بھی ہیں سچے موتیوں کی خرید وفروخت بند نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ جو ہری جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دی ہے ایک ہی نظر سے پہچان جاتے ہیں کہ یہ سچا اور