تحفة الندوہ — Page 99
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۹۹ تحفة الندوه بھیں نے اپنی تحریر میں لعنت اللہ علی الکاذبین کا لفظ میرے مقابل پر بولا وہ کتاب پوری نہ کرنے پایا کہ سخت عذاب سے مر گیا۔ پیر مہر علی شاہ نے اپنی کتاب میں میرے مقابل پر لعنت الله علی الکاذبین کہا وہ معا جرم سرقہ میں اس طرح گرفتار ہوا کہ اُس نے ساری کتاب محمد حسن مردہ کی چرالی اور کہا کہ میں نے بنائی ہے اور جھوٹ بولا اور اس کا نام سیف چشتیائی رکھا اور پھر تیسری مصیبت یہ کہ محمد حسن مردہ نے جس قدر میری کتاب اعجاز مسیح پر جرح خیال کیا تھا وہ جرح بھی سارا لخلط ثابت ہوا اُس نے ابھی نظر ثانی نہیں کی تھی کہ وہ مر گیا اس نادان نے جو عربی سے بے بہرہ ہے اس تمام جرح کو سچ سمجھ لیا۔ اب بتلاؤ کہ یہ بھی ایک قسم کی موت ہے یا نہیں کہ کتاب کا مسودہ چرایا اور وہ چوری پکڑی گئی اور پھر گدی نشین ہو کر صریح جھوٹ بولا کہ یہ کتاب میں نے بنائی ہے اور پھر جو کچھ چرا یا وہ ایسی غلطیاں تھیں کہ گویا نجاست تھی۔ کیا اس عذاب سے عذاب جہنم زیادہ ہے پھر حافظ صاحب کی خدمت میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے تو بہ کرنے کے لئے صرف اتنا کافی نہ ہوگا کہ بفرضِ محال کوئی کتاب الہامی مدعی نبوت کی نکل آوے جس کو وہ قرآن شریف کی طرح ( جیسا کہ میرا دعوی ہے ) خدا کی ایسی وحی کہتا ہو جس کی صفت میں لاریب فیہ ہے جیسا کہ میں کہتا ہوں اور پھر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ وہ بغیر تو بہ کے مرا اور مسلمانوں نے اپنے حمل مہر علی نے محمد حسن مردہ کی نکتہ چینی پر بھروسہ کر کے یہ جاہلانہ الزام میرے پر لگایا کہ عرب کی بعض مشہور مثالیں یا فقرے جو مقامات حریری وغیرہ نے بھی نقل کئے ہیں وہ بطور اقتباس میری کتاب میں بھی پائے جاتے ہیں جو دو تین سطر سے زیادہ نہیں گویا اس نادان کی نظر میں یہ چوری ہوئی ۔ سو اس وقت ضرور تھا کہ وہ پیشگوئی اپنا چہرہ دکھلاتی کہ انــی مهين من اراد اهانتک لہذا وہ ایک ساری کی ساری کتاب کا چور ثابت ہوا اور جھوٹ بولا اور غلط نکتہ چینی کی پیروی کی اور متنبہ نہ ہوسکا کہ یہ غلط ہے اس طرح وہ تین سنگین جرموں میں پکڑا گیا۔ کیا یہ مجزہ نہیں۔ مہ منه مہر علی کی یہ چوری اور پھر جہالت سے غلطیوں پر بھروسہ کرنا اور نادانی سے ابن مریم کو زندہ قرار دینا وغیرہ امور جو سراسر جہل اور نادانی کے تقاضا سے اس سے صادر ہوئے اس کے بارے میں میری طرف سے ایک زبر دست کتاب تالیف ہو رہی ہے جس کا نام نزول المسیح ہے جس سے تنبور چشتیائی پاش پاش ہو کر اس میں صرف گرد و غبار رہ جائے گی کہ جو مہر علی کی آنکھوں میں پڑے گی اور اس کی زندگی کو تلخ کر دے گی ۔ یہ کتاب گیارہ جو تک چھپ چکی ہے۔ منہ