تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 566

تحفة الندوہ — Page 98

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۹۸ تحفة الندو ہوں گے تو میں جھوٹا ہوں اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔ اے فانی انسانو! ہشیار ہو جاؤ اور سوچو کہ بجز اس کے معجزہ کیا ہوتا ہے کہ اس قدر مخالفوں کے جنگ و جدل کے بعد آخر براہین احمدیہ کی وہ پیشگوئیاں بچی نکلیں جو آج سے بائیس برس پہلے کی گئی تھیں تم ثابت نہیں کر سکتے کہ اس زمانہ میں ایک فرد انسان بھی میرے ساتھ تھا مگر اس وقت اگر میری جماعت کے لوگ ایک جگہ آباد کئے جاویں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ شہر امرتسر سے بھی کچھ زیادہ ہوگا۔ حالانکہ براہین کے زمانہ میں جب یہ پیشگوئی کی گئی میں صرف اکیلا تھا پھر اگر مولویوں کی مزاحمت درمیان نہ ہوتی تو براہین احمدیہ کی پیشگوئی پر دوہرا رنگ نہ چڑھتا لیکن اب تو مولویوں اور اُن کے تابعداروں کی مخالفانہ کوششوں نے اس اعجاز پر دوہرا رنگ چڑھا دیا اور بجائے اس کے کہ حسب مضمون اِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذب مجھے صرف صادق ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مقرر کردہ علامت سے بریت مل جاتی۔ اب تو اس کے علاوہ براہین احمدیہ کی عظیم الشان پیشگوئیاں جو اس زمانہ سے ہیں بائیس برس پہلے دنیا میں شائع ہو چکی ہیں وہ پوری ہوگئیں اور ہزار ہا اہل فضل و کمال میرے ساتھ ہو گئے۔ اب دوسرا جز اس آیت کا دیکھو وَإِنْ يَكُ صَادِقَاتُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ کے یہ معیار بھی کیسا اعجازی رنگ میں پورا ہوا خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ انی مهین من اراد اهانتک ہر ایک شخص جو تیری اہانت کرے گا وہ نہیں مرے گا جب تک وہ اپنی اہانت نہ دیکھ لے۔ اب مولویوں سے پوچھ لو کہ انہوں نے میرے مقابل پر خدا کے حکم سے کوئی ذلت بھی دیکھی ہے یا نہیں۔ اب کون میری توہین کرنے والا بول سکتا ہے کہ قرآن کی یہ پیشگوئی جو يُصبكُمُ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ہے میری تائید کے لئے ظہور میں نہیں آئی بلکہ قرآن شریف نے بعض کے لفظ سے جتلا دیا کہ وعید کی پیشگوئی کے لئے بعض کا نمونہ کافی ہے اور اس جگہ نمونے تھوڑے نہیں۔ کیا مخالفوں کی اس میں کچھ تھوڑی ذلت ہے کہ غلام دستگیر اپنی کتاب فتح رحمانی میں یعنی صفحہ ۲۷ میں میرے پر عام لفظوں میں بددعا کر کے یعنی فریقین میں سے کاذب پر بد دعا کر کے خود ہی چند روز کے بعد مر گیا * محمد حسن ا دیکھو کہ کیا یہ معجزہ نہیں کہ جس مولوی نے مکہ کے بعض نادان ملانوں سے میرے پر فتوی کفر کا لکھوایا تھا۔ وہ مباہلہ کر کے خود ہی مر گیا۔ منہ ٢٠١ المؤمن : ٢٩