تحفة الندوہ — Page 100
روحانی خزائن جلد ۱۹ تحفة الندو قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا اور کسی عذاب سے ہلاک نہ ہوا تو صرف اسی قدر سے کوئی کا ذب مدعی نبوت میرے برابر نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ میری تائید میں معجزات بھی ہیں اور با ایں ہمہ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر حافظ صاحب کوشش کرتے کرتے دنیا سے رخصت بھی ہو جائیں یا کسی اور ابو اسحاق محمد دین سے ایک اور ہزار رسالہ قطع الوتین کا تصنیف بھی کرالیں اور گو ایسا شخص اپنے لئے خود کشی پسند کر کے قطع الوتین ہی کر لے مگر پھر بھی حافظ صاحب کے نصیب نہ ہو گا کہ جس طرح میں قریباً تمھیں " برس سے اپنی وحی برابر آج کے دن تک شائع کرتا رہا ہوں اسی طرح اُس کی مسلسل تیس برس کی وحی کا مجموعہ پیش کرسکیں جس پر اُس نے میری طرح قسم کھا کر بیان کیا ہو کہ یہ وحی یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام ہے اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو جیسا کہ میں اپنی کتابوں میں یہی الفاظ اپنی نسبت لکھ چکا ہوں۔ یہ تو ایک ادنی درجہ کی بات ہے کہ جھوٹوں کے ساتھ میرا موازنہ کیا جائے مگر میں تو اس سے بڑھ کر اپنا ثبوت رکھتا ہوں کہ ہزار ہا معجزات اب تک ظاہر ہو چکے ہیں جن کے ہزار ہا گواہ ہیں اور قرآن شریف میرا مصدق ہے۔ کیا یہ میرا حق نہیں ہے کہ مقابلہ کے وقت ان ثبوتوں کو کسی کا ذب پیش کردہ کی نسبت آپ سے طلب کروں۔ بھلا بتلائیں کہ میرے بغیر کس کے لئے ہمو جب حدیث دار قطنی کے کسوف خسوف ہوا کس کے لئے بموجب احادیث صحیحہ کے طاعون پڑی۔ کس کے لئے ستارہ ذو السنین نکلا۔ کس کے لئے لیکھرام وغیرہ کے نشان ظاہر ہوئے۔ لیکن عدوۃ العلماء اگر اپنے تئیں اسم بامسمی کرنا چاہے تو اب اس کی اپنی ذاتی ہدایت کے لئے خواہ حافظ صاحب اس سے کچھ حصہ لیں یا نہ لیں اس قدر بھی کافی ہو سکتا ہے کہ حافظ صاحب سے تو ایسے مدعیان نبوت کا حلفاً ثبوت مانگے جن کی وحی کا ذب کا قرآن شریف کی طرح تئیس برس تک برابر سلسلہ جاری رہا اور اُن سے ثبوت مانگے کہ کہاں انہوں نے قسم کے ساتھ بیان کیا کہ ہم درحقیقت نبی ہیں اور ہماری وحی قرآن کی طرح قطعی یقینی ہے اور یہ بھی ثبوت مانگے کہ کیا وہ لوگ اس زمانہ کے مولویوں کے فتوے سے کا فرٹھہرائے گئے تھے یا نہیں اور اگر نہیں ٹھہرائے گئے تو اس کی کیا وجہ ۔ کیا ایسے مولوی فاسق فاجر تھے یا نہیں جنہوں نے دین میں ایسی لا پروائی ظاہر کی اور یہ بھی ثبوت مانگے