تحفة الندوہ — Page 97
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۹۷ تحفة الندوه کام بھی انہیں مولویوں میں سے بعض سے ظہور میں آئے میرے پر جھوٹی مخبریاں بھی کی گئیں اور خواہ نخواہ گورنمنٹ کو خلاف واقعہ باتوں کے ساتھ اُکسایا گیا مگر کچھ خبر ہے کہ اس کا نتیجہ آخر کا ر کیا ہوا؟ یہ ہوا کہ میں ترقی کرتا گیا جب یہ لوگ میری تکفیر اور تکذیب کے لئے کھڑے ہوئے اور خود بخود پیشگوئیاں کیں کہ جلد تر ہم اس شخص کو نابود کر دیں گے۔ اُس وقت میرے ساتھ کوئی بڑی جماعت نہ تھی بلکہ صرف چند آدمی تھے جن کو انگلیوں پر گن سکتے تھے بلکہ براہین احمدیہ کے زمانہ میں جب براہین احمدیہ چھپ رہی تھی میں صرف اکیلا تھا کون ثابت کر سکتا ہے کہ اُس وقت میرے ساتھ کوئی ایک بھی تھا یہ وہ زمانہ تھا کہ جبکہ خدا تعالیٰ نے پچاس سے زیادہ پیشگوئیوں میں مجھے خبر دی تھی کہ اگر چہ تو اس وقت اکیلا ہے مگر وہ وقت آتا ہے جو تیرے ساتھ ایک دنیا ہوگی اور پھر وہ وقت آتا ہے جو تیرا اس قدر عروج ہوگا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے کیونکہ تو برکت دیا جائے گا۔ خدا پاک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ وہ تیرے سلسلہ کو اور تیری جماعت کو زمین پر پھیلائے گا اور انہیں برکت دے گا اور بڑھائے گا اور اُن کی عزت زمین پر قائم کرے گا جب تک کہ وہ اس کے عہد پر قائم ہوں گے ۔ اب دیکھو کہ براہین احمدیہ کی ان پیشگوئیوں کا جن کا ترجمہ لکھا گیا وہ زمانہ تھا جبکہ میرے ساتھ دنیا میں ایک بھی نہیں تھا جبکہ خدا نے مجھے یہ دعا سکھلائی کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَ أَنْتَ خَيْرُ الورثین کے یعنی اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے ۔ یہ دعا الہامی براہین میں درج ہے غرض اس وقت کے لئے تو براہین احمد یہ خود گواہی دے رہی ہے کہ میں اُس وقت ایک گمنام آدمی تھا مگر آج با وجود مخالفانہ کوششوں کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ میری جماعت مختلف مقامات میں موجود ہے پس کیا یہ معجزہ ہے یا نہیں کہ میری مخالفت اور میرے گرانے میں ہر قسم کے فریب خرچ کئے منصوبے کئے مگر یہ سب مولوی اور اُن کے رفیق چھوٹے بڑے سب کے سب نامرادر ہے۔ اگر یہ معجزہ نہیں تو پھر معجزہ کی تعریف ندوہ کے جبہ پوش خودہی کریں کہ کس چیز کا نام ہے۔ اگر میں صاحب معجزہ نہیں تو جھوٹا ہوں ۔ اگر قرآن سے ابن مریم کی وفات ثابت نہیں تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر حدیث معراج نے ابن مریم کو مردہ روحوں میں نہیں بٹھا دیا تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن نے سورہ نور میں نہیں کہا کہ اِس اُمت کے خلیفے اسی اُمت میں سے الانبياء : ٩٠