تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 566

تحفة الندوہ — Page 96

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۹۶ تحفة الن یہ نہیں کہتا کہ میں اگر جھوٹا ہوتا تو ہلاک کیا جاتا بلکہ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ موسیٰ اور عیسی اور داؤد اور آنحضرت صلعم کی طرح میں سچا ہوں اور میری تصدیق کے لئے خدا نے دس ہزار سے بھی زیادہ نشان دکھلائے ہیں ۔ قرآن نے میری گواہی دی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گواہی دی ہے۔ پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا اور یہ جو میں نے کہا کہ میرے دس ہزار نشان ہیں یہ بطور کفایت لکھا گیا ورنہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایک سفید کتاب ہزار جز کی بھی کتاب ہو اور اس میں میں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُشْرِفٌ ے یعنی اگر یہ جھوٹا ہوگا تو تمہارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہو جائے گا اور اس کا جھوٹ ہی اس کو ہلاک کر دے گا لیکن اگر سچا ہے تو پھر بعض تم میں سے اس کی پیشگوئیوں کا نشانہ بنیں گے اور اس کے دیکھتے دیکھتے اس دار الفنا سے کوچ کریں گے۔ اب اس معیار کے رو سے جو خدا کے کلام میں ہے مجھے آزماؤ اور میرے دعوے کو پرکھو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان مولوی صاحبوں نے میرے تباہ کرنے کے لئے کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا کفر نامہ تیار کرتے کرتے ان کے پیر گھس گئے ۔ گالیوں کے اشتہار شائع کرتے کرتے شیعوں کو بھی پیچھے ڈال دیا میرے پر خون کے مقدمات بنائے گئے اور کئی دفعہ فوجداری الزاموں کے نیچے رکھ کر مجھے عدالت تک پہنچایا گیا۔ میری طرف آنے والوں پر وہ بختی کی گئی کہ بجر صحابہ کی اُس زندگی کے جب مکہ میں تھے دنیا میں اس تو ہین اور تحقیر اور ایذا کی نظیر نہیں پائی جاتی بعض میرے متعلقین غیر ممالک کے انہیں ممالک میں قتل کئے گئے۔ غرض (2) اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ میرے معدوم کرنے کے لئے اور لوگوں کو میری طرف آنے سے منع کرنے کے لئے ناخنوں تک زور لگایا گیا اور کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا۔ بہت سے بے حیائی کے كَذَّابٌ المؤمن : ٢٩