تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxii of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxxii

دیں ان کی نسبت یہ ظلم ہو گا کہ اگر پانچ سات یا دس بیس فقرات اُن کی کتابوں میں ایسے پائے جائیں کہ وہ یا اُن کے مشابہ کسی دوسری کتاب میں بھی ملتے ہیں تو ان کی ثابت شدہ لیاقتوں سے انکار کر دیا جائے۔اِسی طرح ان لوگوں کو انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ اب تک ہماری طرف سے بائیس۲۲ کتابیں عربی فصیح بلیغ میں بطلب مقابلہ تصنیف و شائع ہو چکی ہیں اور عربی کے اشتہارات اِس کے علاوہ ہیں (کتابوں کے نام لکھ کر فرماتے ہیں) اِس قدر تصانیف عربیہ جو مضامینِ دقیقہ علمیہ حکمیہ پر مشتمل ہیں بغیر ایک کامل علمی وسعت کے کیونکر انسان ان کو انجام دے سکتا ہے۔کیا یہ تمام علمی کتابیں حریری یا ہمدانی کے سرقہ سے تیار ہو گئیں اور ہزار ہا معارف اور حقائق دینی و قرآنی جو ان کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ حریری اور ہمدانی میں کہاں ہیں۔اِس قدر بے شرمی سے منہ کھولنا کیا انسانیت ہے؟ یہ لوگ اگر کچھ شرم رکھتے ہوں تو اس شرمندگی سے جیتے ہی مر جائیں کہ جس شخص کو جاہل اور علمِ عربی سے قطعاً بے خبر کہتے تھے اُس نے تو اِس قدر کتابیں فصیح بلیغ عربی میں تالیف کر دیں۔مگر خود ان کی استعداد اور لیاقت کا یہ حال ہے کہ قریباً دس برس ہونے لگے برابر اُن سے مطالبہ ہو رہا ہے کہ ایک کتاب ہی بالمقابل اِ ن کتابوں کے تالیف کر کے دکھلائیں مگر کچھ نہیں کر سکے صرف مکّہ کے کفّار کی طرح یہی کہتے رہے کہ لَوْنَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذا۔۔۔۔۔۔اگر علمی اور دینی کتابیں جو ہزار ہا معارف اور حقائق پر مندرج ہوتی ہیں صرف فرضی انسانوں کی عبارتوں کے سرقہ سے تالیف ہو سکتی ہیں تو اس وقت تک کس نے آپ لوگوں کا منہ بند کر رکھا ہے۔کیا ایسی کتابیں بازاروں میں ملتی نہیں ہیں جن سے سرقہ کر سکو؟ ان لعنتوں کو کیوں آپ لوگوں نے ہضم کیا جو در حالت سکوت ہماری طرف سے آپ کے نذر ہوئیں اور کیوں ایک سورہ کی بھی تفسیر عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے شائع نہ کر سکے تا دنیا دیکھتی کہ کس قدر آپ عربی دان ہیں۔اگر آپ کی نیت بخیر