تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxiii of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxxiii

ہوتی تو میرے تفسیر لکھنے کے لئے ایک مجلس میں بیٹھ جاتے تا دروغ گو بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔خیر تمام دنیا اندھی نہیں ہے۔آخر سوچنے والے بھی موجود ہیں۔ہم نے کئی مرتبہ یہ بھی اشتہار دیا کہ تم ہمارے مقابلہ پر کوئی عربی رسالہ لکھو۔پھر عربی زبان جاننے والے اس کے منصف ٹھہرائے جائیں گے پھر اگر تمہارا رسالہ فصیح بلیغ ثابت ہوا تو میرا تمام دعویٰ باطل ہو جائے گا اور مَیں اب بھی اقرار کرتا ہوں کہ بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد اگر تمہاری تفسیر لفظاً و معناً اعلیٰ ثابت ہوئی تو اس وقت اگر تم میری تفسیر کی غلطیاں نکالو تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام دوں گا۔غرض بے ہودہ نکتہ چینی سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بذریعہ تفسیر عربی اپنی عربی دانی ثابت کرو۔کیونکہ جس فن میں کوئی شخص دخل نہیں رکھا اس فن میں اس کی نکتہ چینی قبول کے لائق نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ادیب جانتے ہیں کہ ہزار ہا فقرات میں سے اگر دوچار فقرات بطور اقتباس ہوں تو اُن سے بلاغت کی طاقت میں کچھ فرق نہیں آتا۔بلکہ اس طرح کے تصرفات بھی ایک طاقت ہے۔دیکھو سبع معلّقہ کے دو شاعروں کا ایک مصرع پر توارد ہے اور وہ یہ ہے ایک شاعر کہتا ہے ع یقولون لا تہلک اٰسیً وتجمّلٖ اور دوسرا شاعر کہتا ہے ع یقولون لا تہلک اسیً وتَجَلّدٖ اب بتلاؤ کہ ان دونوں میں سے چور کون قرار دیا جائے۔نادان انسان کو اگر یہ بھی اجازت دی جاوے کہ وہ چرا کر ہی کچھ لکھے تب بھی وہ لکھنے پر قادر نہیں ہو سکتا کیونکہ اصلی طاقت اس کے اندر نہیں مگر وہ شخص جو مسلسل اور بے روک آمد پر قادر ہے اُس کا تو بہرحال یہ معجزہ ہے کہ امور علمیہ اور حکمیہ اور معارف حقائق کو بِلا توقف رنگین اور بلیغ فصیح عبارتوں میں بیان کر دے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۴۳۷۔۴۴۳) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ تجویز کہ ’’میرے مخالف میرے مقابل پر تفسیر لکھنے کے