تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxi of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxxi

گئی ہیں۔( اس مضمون پر انگریزی اور عربی اور اردو زبان میں پادریوں کی طرف سے کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ناقل) ایسا ہی یہودی بھی کہتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود میں سے لفظ بلفظ چُرائی گئی ہیں۔چنانچہ ایک یہودی نے حال میں ایک کتاب بنائی ہے جو اِس وقت میرے پاس موجود ہے اور بہت سی عبارتیں طالمود کی پیش کی ہیں جو بجنسہٖ بغیر کسی تغیّر تبّدل کے انجیل میں موجود ہیں اور یہ عبارتیں صرف ایک دو فقرے نہیں ہیں بلکہ ایک بڑا حصّہ انجیل کا ہے اور وہی فقرات اور وہی عبارتیں ہیں جو انجیل میں موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اِن دنوں میں ایک اَور شخص نے تالیف کی ہے جس سے وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ توریت کی کتابِ پیدائش جو گویا توریت کے فلسفہ کی ایک جڑھ مانی گئی ہے ایک اَور کتاب میں سے چُرائی گئی ہے جو موسٰیؑ کے وقت میں موجود تھی گویا ان لوگوں کے خیال میں موسٰیؑ اور عیسٰی ؑ سب چور ہی تھے۔یہ تو انبیاء علیہم السلام پر شک کئے گئے ہیں مگر دوسرے ادیبوں اور شاعروں پر نہایت قابلِ شرم الزام لگائے گئے ہیں۔متنبّی جو ایک مشہور شاعر ہے اُس کے دیوان کے ہر شعر کی نسبت ایک شخص نے ثابت کیا ہے کہ وہ دوسرے شاعروں کے شعروں کا سرقہ ہے۔غرض سرقہ کے الزام سے کوئی بچا نہیں۔نہ خدا کی کتابیں اور نہ انسانوں کی کتابیں۔اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ کیا درحقیقت ان لوگوں کے الزامات صحیح ہیں؟ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کے ملہموں اور وحی یابوں کی نسبت ایسے شبہات دل میں لانا تو بدیہی طور پر بے ایمانی ہے اور لعنتیوں کا کام کیونکہ خدائے تعالیٰ کے لئے کوئی عار کی جگہ نہیں کہ بعض کتابوں کی بعض عبارتیں یا بعض فقرات اپنے ملہموں کے دل پر نازل کرے بلکہ ہمیشہ سے سنت اﷲ اس پر جاری ہے۔رہی یہ بات کہ دوسرے شاعروں اور ادیبوں کی کتابوں پر بھی یہی اعتراض آتا ہے کہ بعض کی عبارتیں یا اشعار بلفظہا یا بتغیّر مابعض کی تحریرات میں پائے جاتے ہیں تو اِس کا جواب جو ایک کامل تجربہ کی روشنی سے ملتا ہے یہی ہے کہ ایسی صورتوں کو بجز توارد کے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ جن لوگوں نے ہزار ہا جزیں اپنی بلیغ عبارت کی پیش کر