تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvi of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxvi

واعانہ علیہ قوم اٰخرون کا اعتراض پھر مخالفین نے آپؑ پر یہ اعتراض بھی کیا کہ جو کتابیں عربی زبان میں آپ تصنیف فرماتے ہیں۔وہ دوسروں سے لکھواتے ہیں اور ایک شامی عرب اپنے پاس رکھا ہے جو آپ کو لکھ کر دیتا ہے اور آپ اپنے نام پر شائع کر دیتے ہیں۔اور یہ اعتراض جس بے ہودہ رنگ میں انہوں نے کیا یقیناًمخالفینِ اسلام نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر اس رنگ میں نہیں کیا ہو گا۔جھوٹ بولنا آسان ہوتا ہے لیکن اُس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کئی اور جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔مَیں اس جگہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے اصل الفاظ نقل کر دیتا ہوں تا آئندہ آنے والے لوگ آپ کے مخالفین کی اِن مذبوحی حرکات اور اِن افتراؤں کا اندازہ لگا سکیں جو وہ مقابلہ سے بچنے اور عوام الناس کو آپ سے دُور رکھنے کے لئے تراشا کرتے تھے۔نیز اُن کے پاس اِس اعتراض کا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی متعدد کُتب میں کیا ہے۔ایک ثبوت ہو جائے۔شیخ بٹالوی صاحب لکھتے ہیں:۔’’امرتسر کے گلی کوچہ میں یہ خبر مشہور تھی کہ اس قصیدۂ ہمزیہ ۱؂ کے صِلہ میں کادیانی نے شامی صاحب کو دو سو روپے دیئے ہیں۔مَیں نے شامی صاحب سے اس خبر کی حقیقت دریافت کی تو انہوں نے اِس سے انکار کیا اور ان کے بیان سے یہ معلوم ہوا کہ اس مدح و تائید کے صلہ میں کادیانی نے کسی خوبصورت عورت سے نکاح کرا دینے کا ان کو وعدہ دیا تھا وہ اس وعدہ کے بھروسہ پر قادیان میں چار مہینے کے قریب رہے۔اس عرصہ میں کادیانی نے اُن سے عربی نظم و نثر میں بہت کچھ لکھوایا اور گو دودھ بالائی آم مرغ کھلانے سے اُن کی اچھی مدارات کی مگر اُن کے اصل مطلوب نکاح سے اُن کو محروم رکھا اور وہ وعدہ پورا نہ کیا۔ایک عورت فاحشہ سے اُن کا نکاح کرانا چاہا مگر اُس کے فاحشہ ہونے کا اُن کو علم ہو گیا اِس لئے اُس کے نکاح سے انہوں نے انکار کیا اور دو تین عورتیں اور اُن کو دکھائیں مگر وہ خوبصورت نہ ہونے کی وجہ سے اُن کو پسند نہ آئیں آخر وہ قادیان سے سخت ناراض ہو کر چلے گئے جاتے ہوئے خاکسار کو ملے تو کادیانی