تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxvii

پر بہت ناراضگی ظاہر کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اب میں ایک رسالہ موسومہ بکراماتِ کادیانی لکھوں گا۔اس میں کادیانی کی مکّاری کا خوب اظہار کروں گا اور انہوں نے مجھ سے اس امر کی درخواست کی کہ مَیں اُن کی یہ سرگذشت و پرحسرت کیفیت مشتہر کردوں اور اِس پر کادیانی کی اس بے وفائی اور وعدہ خلافی پر افسوس ظاہر کروں۔اس درخواست کی وجہ سے یہ چند سطور لکھے گئے ہیں اور نیز اس سے عامہ خلائق کی ہدایت و صیانت مقصود مدّنظر ہے تاکہ عام لوگ کادیانی کے دامِ فریب سے واقف ہو جائیں اور اس دام سے اپنے آپ کو بچائیں۔’’اِس مضمون کے لکھے جانے کے بعد ہم نے سُنا ہے کہ کادیانی کے درپردہ پیرو مرشد و بحسبِ ظاہر مرید حکیم نور الدین صاحب بھیروی نے شامی کا نکاح کہیں کرا دیا ہے اور اس خبر کے سُننے سے ہم کو خوشی ہوئی اور افسوس۔نیز خوشی اس لئے کہ مظلوم شامی کی حق رسی ہوئی۔افسوس اس لئے کہ اب شامی صاحب کی طرف سے رسالہ ’’کرامات کادیانی‘‘ کی اشاعت چندے ملتوی رہے گی۔شامی صاحب کے نکاح کی یہ تجویز خاکسار کہیں کرا دیتا تو اُن سے جس قدر چاہتا کادیانی کے ردّ و مذمت میں نظم و نثر (جیسی اُن کو آتی ہے) لکھوا لیتا ولیکن یہ پیشہ دلالی کادیانی صاحب کا ہی خاصہ ہے جس کے ذریعہ سے انہوں نے کئی نامی مریدوں کودامِ مریدی میں پھنسایا ہوا ہے جس کے نام نامی اور القابِ گرامی مولوی حکیم وغیرہ وغیرہ سے اکثر سکنائے پنجاب واقف ہیں اور ایسے باطل اور ناجائز ذرائع سے کام نکالنا ہی ان کا شیوہ معجزہ ہے۔لہٰذا یہ جرأت مجھ سے نہ ہو سکی اور مَیں نے اُن کو اس طرح کی اُمید نہ دلائی۔۱؂ ‘‘ یاد رہے کہ جس شامی عرب سے متعلق بٹالوی صاحب نے مذکورہ بالا بے ہودہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔وہ وہ شخص ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عربی تالیف ’’التبلیغ‘‘ کو پڑھ کر بے ساختہ کہا ’’واﷲ ایسی عبارت عرب بھی نہیں لکھ سکتا‘‘ اور جب اس کے آخر میں شائع شدہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان اقدس میں مدحیہ قصیدہ دیکھا تو وہ پڑھ کر بے اختیار رونے لگے۔اور کہا ’’خدا کی قسم! مَیں نے اس زمانہ کے عربوں کے اشعارکو کبھی پسند نہیں کیا۔۔۔مگر اِن اشعار کو حفظ کروں گا۔‘‘ ۲؂ اور اتنے