تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxi of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxi

مضمون یا رسالہ یا کتاب تحریر فرما سکیں۔مگر عربی زبان کا علم آپ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا اور اعجازی رنگ میں ہوا تھا۔اِس لئے آپ نے نہایت فصیح و بلیغ عربی میں بیس سے زیادہ رسالے اور کتابیں لکھیں اور مخالفین علماء کو ہزار ہا روپیہ کے انعامات مقرر کر کے مقابلہ کے لئے بلایا۔لیکن کسی کو بالمقابل کتاب یا رسالہ لکھنے کی جرات نہ ہوئی۔عربی زبان کا علم وہبی تھا عربی زبان کا علم آپ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا۔چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی کتاب ’’ انجام آتھم‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:۔’’وان کمالی فی اللسان العربی مع قلّۃ جھدی و قصور طلبی اٰیۃ واضحۃ من ربّی لیظھر علی الناس علمی و ادبی۔۔۔وانّی مع ذٰلک علمت اربعین الفا من اللغات العربیۃ۔واعطیت بسطۃ کاملۃ فی العلوم الادبیۃ۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۲۳۴) یعنی عربی زبان میں باوجود میری کمی کوشش اور کوتاہی جستجو کے جو مجھے کمال حاصل ہے وہ میرے ربّ کی طرف سے ایک کھلا نشان ہے تا وہ لوگوں پر میرے علم اور میرے ادب کو ظاہر کرے۔پس کیا مخالفوں کے گروہوں میں سے کوئی ہے جو میرے مقابلہ پر آوے؟ اور اس کے ساتھ مجھے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مجھے چالیس ہزار مادہ عربی زبان کا سکھایا گیا ہے۔اور مجھے ادبی علوم پر پوری وسعت عطا کی گئی ہے۔اور ’’ضرورت الامام ‘‘ میں فرماتے ہیں:۔’’مَیں قرآن شریف کے معجزہ کے ظل پر عربی بلاغت فصاحت کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔‘‘ (ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۴۹۶) اور ’’ لُجّۃُ النور‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:۔’’کلما قلت من کمال بلاغتی فی البیان فھو بعد کتاب اﷲ القراٰن۔‘‘ (لُجّۃ النور۔روحانی خزائن جلد۱۶ صفحہ ۴۶۴)