تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xx of 417

تحفہٴ بغداد — Page xx

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی کچھ عرصہ کے لئے ان کے پاس بٹالہ رہنا پڑا۔اس عرصہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی بھی آپ کے رفیقِ تعلیم بن گئے جس کا ذکر مولوی صاحب مذکور نے اپنے رسالہ اشاعۃ السّنۃ جلد ۷ میں بایں الفاظ کیا ہے:۔’’مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین میں سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں۔بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملاّ پڑھتے تھے) ہمارے ہم مکتب تھے۔اُس زمانہ سے آج تک ہم میں اور ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جا ری ہے۔‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ اِسی زمانہ کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مخاطب کرتے ہوئے اشارہ فرمایا ہے ؂ قَطَعْتَ وَدَادًا قَدْ غَرَسْنٰہُ فِی الصَّبَا وَ لَیْسَ فُؤَادِیْ فِی الْوَدَادِ یُقَصِّرٗ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۳۵) تُونے اُس دوستی کو کاٹ دیا جس کا درخت ہم نے ایام کودکی میں لگایا تھا۔مگر میرے دل نے دوستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔اُس زما نہ میں سب سے بڑا مرکز علومِ شرقیہ کے حاصل کرنے کا دہلی تھا جہاں اور بہت سے معروف و مشہور اکابر علماء کے علاوہ شیخ الکل مولوی نذیر حسین صاحب سکونت پذیر تھے جن کی شاگردی کا فخر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو حاصل تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مذکورہ بالا تین غیر معروف اساتذہ سے مروجہ علوم کی چند کتابیں اور اپنے والد ماجد سے چند کتابیں علمِ طب کی پڑھنے کے علاوہ اور کہیں تعلیم نہ پائی تھی۔اس لئے کسی شخص کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آ سکتی تھی کہ آپ معمولی عربی زبان میں کوئی کتاب یا رسالہ تالیف کر سکتے ہیں چہ جائیکہ فصیح و بلیغ عربی میں پُراز معارف و حقائق ضخیم کتب لکھ سکیں۔یہی وجہ تھی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دیگر مولویوں نے آپ سے متعلق یہ مشہور کر دیا کہ آپ علومِ عربیّہ سے جاہل ہیں اور حقیقت یہی تھی کہ آپ کا اکتسابی علم ایسا نہ تھا کہ آپ فصیح و بلیغ عربی میں کوئی