تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 339

روحانی خزائن جلدے ۳۳۹ تحفہ گولڑو اور نہ آسمان پر چڑھایا گیا لیکن حسب منطوق آیت قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا آگ اُس کو جلا نہ سکی۔ اسی طرح یوسف بھی جب کو ئیں میں پھینکا گیا آسمان پر نہیں گیا بلکہ کنواں اس کو ہلاک نہ کر سکا۔ اور ابراہیم کا پیارا فرزند اسماعیل بھی ذبح کے وقت آسمان پر نہیں رکھایا گیا تھا بلکہ چھری اس کو ذبح نہ کر سکی ۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محاصرہ غار ثور کے وقت آسمان پر نہیں گئے بلکہ خونخوار دشمنوں کی آنکھیں ان کو دیکھ نہیں سکیں ۔ اسی طرح مسیح بھی صلیب کے وقت آسمان پر نہیں گیا بلکہ صلیب اُس کو قتل نہیں کر سکا ۔ غرض ان تمام نبیوں میں سے کوئی بھی مصیبتوں کے وقت آسمان پر نہیں گیا۔ ہاں آسمانی فرشتے اُن کے پاس آئے اور انہوں نے مدد کی۔ یہ واقعات بہت صاف ہیں ۔ اور صاف طور پر ان سے ثبوت ملتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر نہیں گئے اور اُن کا اُسی قسم کا رفع ہوا جیسا کہ ابراہیم اور تمام نبیوں کا ہوا تھا۔ اور وہ آخر وفات پاگئے اس لئے آنے والا صحیح اسی امت میں سے ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا تا دونوں سلسلہ یعنی سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمدیہ اپنے اول اور آخر کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مطابق ہوں ۔ پس ظاہر ہے کہ جس خدا نے اس دوسرے سلسلہ میں مثیل موسیٰ سے ابتدا کیا اس سے صریح اس کا ارادہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سلسلہ کو مثیل مسیح پر ختم کرے گا جبکہ اس نے فرما دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہے اور یہ تمام سلسلہ سلسلہ خلافت موسویہ کا مشابہ ہے تو اس میں کیا شک رہ گیا کہ اس سلسلہ کا خاتمہ مثیل مسیح پر چاہیے تھا مگر اب یہ لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں اپنے خیالات کو چھوڑ نہیں سکتے یہ اُس مسیح کے منتظر ہیں جو زمین کو خون سے پُر کر دے گا۔ اور ان لوگوں کو زمین کے بادشاہ بنا دے گا ۔ یہی دھوکا یہودیوں کو لگا تھا جنہوں نے حضرت عیسی کو قبول نہیں کیا جیسا کہ ہسٹری آؤ دی کریچن چرچ فار فرسٹ تھری سنچریز مصنفہ ریورنڈ جے جے بلیٹ ل الانبياء: ٧٠ ☆۔ History of the christian church for first three centuries۔