تحفۂ گولڑویہ — Page 338
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۳۸ اس آیت میں شبہ لھم کے یہی معنے ہیں اور یہ سنت اللہ ہے ۔ خدا جب اپنے محبوبوں کو بچانا چاہتا ہے تو ایسے ہی دھوکا میں مخالفین کو ڈال دیتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غار ثور میں پوشیدہ ہوئے تو وہاں بھی ایک قسم کے شُبّهَ لَهُمْ سے خدا نے کام لیا یعنی مخالفین کو اس ۱۴۲) دھوکا میں ڈال دیا کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس غار کے منہ پر عنکبوت نے اپنا جالا بنا ہوا ہے اور کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں۔ پس کیونکر ممکن ہے کہ اس میں آدمی داخل ہو سکے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں جوقبر کی مانند تھی تین دن رہے جیسا کہ حضرت مسیح بھی اپنی شامی قبر میں جب غشی کی حالت میں داخل کئے گئے تین دن ہی رہے تھے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو یونس پر بزرگی مت دو یہ بھی اشارہ اس مماثلت کی طرف تھا کیونکہ غار میں داخل ہونا اور مچھلی کے پیٹ میں داخل ہونا یہ دونوں واقعہ با ہم ملتے ہیں ۔ پس نفی تفضیل اس وجہ سے ہے نہ کہ ہر ایک پہلو سے ۔ اس میں کیا شک ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نہ صرف یونس سے بلکہ ہر ایک نبی سے افضل ہیں۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنتوں اور عادتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب مخالف اُس کے نبیوں اور ماموروں کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ان کے ہاتھ سے اس طرح بھی بچالیتا ہے کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اس شخص کو ہلاک کر دیا حالانکہ موت تک اُس کی نوبت نہیں پہنچتی۔ اور یا وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا حالانکہ وہیں چھپا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے شر سے بچ جاتا ہے۔ پس شُبّهَ لَهُمْ کے یہی معنے ہیں ۔ اور یہ فقرہ شُبّه لَهُمْ صرف حضرت مسیح سے خاص نہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ میں ڈالے گئے تب بھی یہ عادت اللہ ظہور میں آئی۔ ابراہیم آگ سے جدا نہیں کیا گیا