تحفۂ گولڑویہ — Page 305
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۰۵ تحفہ گولڑویہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے وقت میں سلسلہ محمد یہ کا مسیح آئے گا جبکہ رومی طاقتوں کے ساتھ اسلامی سلطنت مقابلہ نہیں کر سکے گی اور کمزور اور پست اور مغلوب ہو جائے گی اور ایسی سلطنت زمین پر قائم ہوگی جس کے مقابل پر کوئی ہاتھ کھڑا نہیں ہو سکے گا۔ اور مسیح نے تمام انجیل میں کہیں دعوی نہیں کیا کہ میں موسیٰ کی مانند ہوں مگر قرآن آواز بلند سے فرماتا ہے کہ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ L رَسُولًا یعنی ہم نے اس رسول کو ۔ کواے عرب کے خونخوار ظالم وار ظالمو! اسی رسول کی مانند بھیجا ہے جو تم ۱۲۴ سے پہلے فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ پیشگوئی جو اس شد و مد سے قرآن شریف میں لکھی گئی ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس دعوئی دروغ کے ساتھ جو اپنے تئیں موسیٰ کا مثیل ٹھہرالیا کبھی اپنے مخالفوں پر فتحیاب نہ ہو سکتے مگر تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ فتح عظیم اپنے مخالفوں پر حاصل ہوئی کہ بجز نبی صادق دوسرے کے لئے ہرگز میسر نہیں آسکتی پس مماثلت اس کا نام ہے جس کی تائید میں دونوں طرف سے تاریخی واقعات اس زور شور سے گواہی دے رہے ہیں کہ وہ دونوں واقعات بدیہی طور پر نظر آتے ہیں۔ اور موسیٰ کے یہ تین کام کہ گروہ مخالف کو جو مصر امن تھا ہلاک کرنا اور پھر اپنے گروہ کو حکومت اور دولت بخشنا اور ان کو شریعت عطا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انہی تین کاموں کے ساتھ ایسے مشابہ ثابت ہو گئے ہیں کہ گویا وہ دونوں کام ایک ہی ہیں۔ یہ ایک ایسی مماثلت ہے جس سے ایمان قوی ہوتا ہے اور یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ دونوں کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس پیشگوئی سے خدا کے وجود کا پتہ لگتا ہے کہ وہ کیسا قادر اور زبردست خدا ہے کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں ۔ اسی جگہ سے طالب حق کے لئے حق الیقین کے درجہ تک یہ معرفت پہنچ جاتی ہے کہ آنے والا مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ہے نہ کہ وہی عیسی نبی اللہ دوبارہ دنیا میں آکر رسالت محمدیہ کی ختمیت کے مسئلہ کو مشتبہ کر دے گا اور نعوذ بالله فلما تو فیتنی کا المزمل: ۱۶