تحفۂ گولڑویہ — Page 304
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۰۴ تحفہ گولڑویہ ایک دوسرے سے مطابق ہو جاتے۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور اسی حقیقت کے سمجھنے پر تمام نزاعوں کا فیصلہ موقوف ہے۔ جو بات خدا نے چاہی انسان اس کو رد نہیں کر سکتا۔ خدا نے دنیا کو اپنے عجائبات قدرت دکھلانے کے لئے ابراہیم کی اولاد سے دو سلسلے قائم کئے۔ اوّل موسوی سلسلہ جو بنی اسرائیل میں قائم کیا گیا اور ایک ایسے شخص پر ختم کیا گیا جو بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا یعنی عیسی مسیح ۔ اور عیسی مسیح کے دو گروہ دشمن تھے ایک اندرونی گروہ یعنی وہ یہودی جنہوں نے اس کو صلیب دے کر مارنا چاہا جس کی طرف سورۃ فاتحہ میں یعنی آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں اشارہ ہے۔ دوسرے بیرونی دشمن یعنی وہ لوگ جو رومی قوم میں سے متعصب تھے جن کو خیال تھا کہ یہ شخص سلطنت کے مذہب اور اقبال کا دشمن ہے۔ ایسا ہی خدا نے آخری مسیح کے لئے دو دشمن قرار دئیے ایک وہی جن کو اُس نے یہودی کے نام سے موسوم کیا وہ اصل یہودی نہیں تھے۔ جس طرح یہ مسیح جو آسمان پر عیسی بن مریم کہلاتا ہے دراصل عیسی بن مریم نہیں ہے بلکہ اُس کا مثیل ہے۔ دوسرے اس مسیح کے وہ دشمن ہیں جو صلیب پر غلو کرتے ہیں اور صلیب کی فتح چاہتے ہیں مگر اس مسیح کی پہلے مسیح کی طرح آسمان پر بادشاہت ہے زمین کی حکومتوں سے کچھ تعلق نہیں ۔ ہاں جس طرح رومی قوم میں آخر دین مسیحی داخل ہو گیا اس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی انجیل میں یہ دعوی نہیں کہ میں موسیٰ کی مانند بھیجا گیا ہوں اور نہ ایسا دعویٰ وہ کر سکتے تھے کیونکہ وہ موسوی سلسلہ کے تحت میں اس سلسلہ کے آخری خلیفہ تھے لہذا وہ موسیٰ کے مثیل کیونکر ٹھہر سکتے تھے مثیل تو وہ تھا جس نے موسیٰ کی طرح امن بخشا اور سلطنت بخشی اور شریعت دی اور پھر موسیٰ کی طرح چودہ سو برس کا ایک سلسلہ قائم کیا۔ اور آپ موسیٰ بن کر اپنے خلفاء کے اخیر سلسلہ میں موسیٰ کی طرح ایک مسیح کی بشارت دی ۔ اور جس طرح موسیٰ نے توریت میں لکھا کہ یہودا کی سلطنت جاتی نہیں رہے گی جب تک مسیح نہ آوے ۔ اسی طرح مثیل موسیٰ