تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 306

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۰۶ کذب ثابت کرے گا۔ جس شخص کے دل میں حق کی تلاش ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ قرآن شریف کے رو سے کئی انسانوں کا بروزی طور پر آنا مقدر تھا۔ (۱) اول مثیل موسیٰ کا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جیسا کہ آیت إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا سے ثابت ہے (۲) دوم خلفاء موسیٰ کے مثیلوں کا جن میں مثیل مسیح بھی داخل ہے جیسا کہ آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ " سے ثابت ہے (۳) عام صحابہ کے مثیلوں کا جیسا کہ آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ " سے ثابت ہے (۴) چہارم اُن یہودیوں کے مثیلوں کا جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لکھا اور ان کو قتل کرنے کے لئے فتوے دیئے اور اُن کے ایذا اور قتل کے لئے سعی کی جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں جو دعا سکھائی گئی ہے اس سے صاف مترشح ہو رہا ہے (۵) پنجم یہودیوں کے بادشاہوں کے اُن مثیلوں کا جو اسلام میں پیدا ہوئے جیسا کہ ان دو بالمقابل آیتوں سے جن کے الفاظ باہم ملتے ہیں سمجھا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں: یہودیوں کے بادشاہوں کی نسبت اسلام کے بادشاہوں کی نسبت قَالَ عَلَى رَبِّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلَّيْفَ فِي الْأَرْضِ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ مِنْ بَعْدِهِمْ لِتَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ " الجز و نمبر ۹ سورة الاعراف صفحه ۲۶۵ الجز و نمبر ۱ سورۃ یونس صفحه ۳۳۵ یہ دو فقرے یعنی فینظر کیف تعملون جو یہودیوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے اور اُس کے مقابل پر دوسرا فقرہ یعنی لننظر كيف تعملون جو مسلمانوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے صاف بتلا رہے ہیں کہ ان دونوں قوموں کے بادشاہوں کے واقعات بھی باہم متشابہ ہوں ۱۲۵ گے۔ سوالیسا ہی ظہور میں آیا۔ اور جس طرح یہودی بادشاہوں سے قابل شرم خانہ جنگیاں ظہور المزمل: ١٦ ٢ النور : ۵۶ ۳ الجمعة : ۴ الاعراف: ١٣٠ ۵ یونس : ۱۵