تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 299

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۹۹ تحفہ گولڑویہ کہا کرتے ہیں کہ توریت میں جو مثیل موسیٰ کا وعدہ ہے اور لکھا ہے کہ تمہارے بھائیوں میں سے موسیٰ کی مانند ایک نبی قائم کیا جائے گا وہ نبی یسوع یعنی عیسی بن مریم ہے یہ قول ان کا اس جگہ سے غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ جس حالت میں بنی اسرائیل میں سے حضرت عیسی کا کوئی باپ نہیں ہے تو وہ بنی اسرائیل کا بھائی کیونکر بن سکتا ہے ۔ پس بلا شبہ ماننا پڑا کہ لفظ اسمعیل تمہارے بھائیوں میں سے جو توریت میں موجود ہے اس سے مراد وہ نبی ہے جو بنی اسما میں سے ظاہر ہوا یعنی محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کیونکہ توریت میں جا بجا بنی اسمعیل کو بنی اسرائیل کے بھائی لکھا ہے لیکن ایسا شخص جو باقرار فریقین کسی اسرائیلی مرد کے نطفہ میں سے نہیں ہے اور نہ اسماعیلی مرد کے نطفہ سے وہ کسی طرح بنی اسرائیل کا بھائی نہیں کہلا سکتا اور نہ حسب ادعائے عیسائیاں وہ موسیٰ کی مانند ہے کیونکہ وہ تو اُن کے نزدیک خدا ہے اور موسیٰ تو خدا نہیں۔ اور ہمارے نزدیک بھی وہ موسیٰ کی مانند نہیں کیونکہ موسیٰ نے ظاہر ہو کر تین بڑے کھلے کھلے کام کئے جو دنیا پر روشن ہو گئے ایسے ہی کھلے کھلے تین کام جو دنیا پر بدیہی طور پر ظاہر ہو گئے ہوں جس نبی سے ظہور میں آئے ہوں وہی نبی مثیل موسیٰ ہوگا۔ اور وہ کام یہ ہیں (۱) اوّل یہ کہ موسیٰ نے اُس دشمن کو ہلاک کیا جو اُن کی اور اُن کی شریعت کی بیخ کنی کرنا چاہتا تھا (۲) دوسرے یہ کہ موسیٰ نے ایک نادان قوم کو جو خدا اور اس کی کتابوں سے ناواقف تھی اور وحشیوں کی طرح چار سو برس سے زندگی بسر کرتے تھے کتاب اور خدا کی شریعت دی یعنی توریت عنایت کی اور ان میں شریعت کی بنیاد ڈالی (۳) تیسرے یہ کہ بعد اس کے کہ وہ لوگ ذلت کی زندگی بسر کرتے تھے ان کو حکومت اور بادشاہت عنایت کی اور اُن میں سے بادشاہ بنائے۔ ان تینوں انعامات کا قرآن شریف میں ذکر ہے ۔ جیسا کہ فرمایا ۔ قَالَ عَلى رَبِّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ : دیکھو سورۃ الاعراف الجز نمبر ۹ ۔ اور پھر دوسری جگہ فرمایا ۔ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَهِيْمَ الْكِتَبَ (١٣) الاعراف : ١٣٠