تحفۂ گولڑویہ — Page 300
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۰۰ تحفہ گولڑویہ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَهُمْ مُلكًا عَظِيمًا - دیکھو سورة النساء الجز و نمبر ۵ ۔ اب سوچ کر دیکھ لو کہ ان تینوں کاموں میں حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ذرہ بھی مناسبت نہیں ۔ نہ وہ پیدا ہوکر یہودیوں کے دشمنوں کو ہلاک کر سکے اور نہ وہ اُن کے لئے کوئی نئی شریعت لائے اور نہ انہوں نے بنی اسرائیل یا اُن کے بھائیوں کو بادشاہت بخشی۔ انجیل کیا تھی وہ صرف توریت کے چند احکام کا خلاصہ ہے جس سے پہلے یہود بے خبر نہیں تھے گو اس پر کار بند نہ تھے۔ یہود گو حضرت مسیح کے وقت میں اکثر بدکار تھے مگر پھر بھی اُن کے ہاتھ میں تو ریت تھی ۔ پس انصاف ہمیں اس گواہی کے لئے مجبور کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کچھ مماثلت نہیں رکھتے اور یہ کہنا کہ جس طرح حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اسی طرح حضرت عیسی نے اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دی یہ ایسا بیہودہ خیال ہے کہ کوئی شخص کو کیسا ہی اغماض کرنے والا ہو اس خیال پر اطلاع پا کر اپنے تئیں بننے سے روک نہیں سکے گا۔ مخالف کے سامنے اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ عیسی نے ضرور اپنے پیروؤں کو شیطان سے اسی طرح نجات دے دی جیسا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی ۔ موسیٰ کا بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دینا ایک تاریخی امر ہے جس سے نہ کوئی یہودی منکر ہو سکتا ہے نہ عیسائی نہ مسلمان نہ گہرنہ ہند و کیونکہ وہ دنیا کے واقعات میں سے ایک واقعہ مشہورہ ہے مگر عیسی کا اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دنیا صرف اعتقادی امر ہے جو محض نصاری کے خیالات میں ہے خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں جس کو دیکھ کر ہر ایک شخص بدیہی طور پر قائل ہو سکے کہ ہاں یہ لوگ در حقیقت شیطان اور ہر ایک بدکاری سے نجات پاگئے ہیں اور ان کا گروہ ہر ایک بدی سے پاک ہے۔ نہ اُن میں زنا ہے نہ شراب خوری نہ قمار بازی اور نہ خونریزی بلکہ تمام مذاہب کے پیشوا اپنے اپنے خیال میں اپنی اپنی امتوں کو ا النساء : ۵۵