تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 298

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۹۸ تحفہ گولڑ و به اور شیطان کا اُن میں حصہ نہیں ہوتا ۔ (۲) دوسری وہ عورتیں ہیں جن کے حالات اکثر گندے اور نا پاک رہتے ہیں۔ پس ان کی اولاد میں شیطان اپنا حصہ ڈالتا ہے جیسا کہ آیت وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس میں شیطان کو خطاب ہے کہ ان کے مالوں اور بچوں میں حصہ دار بن جا یعنی وہ حرام کے مال اکٹھا کریں گی اور نا پاک اولاد جنیں گی۔ ایسا سمجھنا غلطی ہے کہ حضرت عیسی کو نفخ روح سے کچھ خصوصیت تھی جس میں دوسروں کو حصہ نہیں بلکہ نعوذ باللہ یہ خیال قریب قریب کفر کے جا پہنچتا ہے۔ اصل حقیقت صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں انسانوں کی پیدائش میں دو قسم کی شراکت بیان ۱۲۰ فرمائی گئی ہے (۱) ایک روح القدس کی شراکت جب والدین کے خیالات پر ناپا کی اور خباثت غالب نہ ہو (۲) اور ایک شیطان کی شراکت جب اُن کے خیال پر ناپاکی او پلیدی غالب ہو ۔ اسی کی طرف اشارہ اس آیت میں بھی ہے کہ لَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًات پس بلا شبہ حضرت عیسی علیہ السلام اُن لوگوں میں سے تھے جو مس شیطان اور نفخ ابلیس سے پیدا نہیں ہوئے اور بغیر باپ کے ان کا پیدا ہونا یہ امر دیگر تھا جس کو روح القدس سے کچھ تعلق نہیں۔ دنیا میں ہزاروں کیڑے مکوڑے برسات کے دنوں میں بغیر باپ کے بلکہ بغیر ماں اور باپ دونوں کے پیدا ہو جاتے ہیں تو کیا وہ روح القدس کے فرزند کہلاتے ہیں؟ روح القدس کے فرزند وہی ہیں جو عورتوں کی کامل پاکدامنی اور مردوں کے کامل پاک خیال کی حالت میں رحم مادر میں وجود پکڑتے ہیں اور اُن کی ضد شیطان کے فرزند ہیں۔ خدا کی ساری کتابیں یہی گواہی دیتی آئی ہیں۔ اور پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو بنی اسرائیل کے لئے اور اُن سب کے لئے جو سمجھیں ایک نشان بنایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت عیسی کو بغیر باپ کے پیدا کر کے بنی اسرائیل کو سمجھا دیا کہ تمہاری بد اعمالی کے سبب سے نبوت بنی اسرائیل سے جاتی رہی کیونکہ عیسی باپ کے رو سے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہے۔ اس مقام میں یہ بات بھی یادر کھنے لائق ہے کہ اکثر پادری جو ا بنی اسرائیل: ۶۵ نوح : ۲۸